ٹھٹھہ میں مبینہ پولیس تشدد، سرکی برادری کے 4 نوجوان زخمی، ورثا کی اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے اور انصاف کی اپیل

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن)مبینہ پولیس تشدد پر سرکی برادری کے 4 نوجوان زخمی ورثا کی پریس کانفرنس

ٹھٹھہ کی سرکی برادری کے معززین حمیر خان سرکی، قادر سرکی، بھورو سرکی، نبی بخش سرکی اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھٹھہ میں پولیس گردی کی انتہا ہے، کوئی شریف آدمی اپنا گزر بسر بھی نہیں کر سکتا۔ مکلی پولیس نے ہوٹل پر محنت مزدوری کرنے والے چار نوجوانوں مالک سرکی، جبار سرکی، غفار اور عنایت سرکی کو بلاجواز گرفتار کر کے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جھونپڑا ہوٹل پر توڑ پھوڑ کر کے ہوٹل کے دراز  میں رکھی ہوئی ایک لاکھ روپے نقد رقم بھی اٹھا لی ہے۔ جس کے بعد مکلی پولیس کی جانب سے سرکار کی مدعیت میں الگ الگ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے جھوٹے الزامات لگا کر فائرنگ، تشدد، ڈیوٹی میں رکاوٹ، گٹکا ایکٹ اور اسلحہ رکھنے کے الزام کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ گرفتار کیے گئے نوجوانوں کو ساری رات تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 3 بھائی عبدالمالک سرکی، جبار سرکی اور غفار سرکی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

گرفتار نوجوانوں کو ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے ٹھٹھہ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں گرفتار نوجوانوں نے عدالت کو بھی اس سے آگاہ کیا اور وکلاء کی درخواست پر طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹھٹھہ میں پولیس کسی کی جائز ایف آئی آر بھی درج نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹھٹھہ ضلع پرامن ضلع ہے، یہاں کے لوگ شریف ضرور ہیں لیکن ظلم و زیادتی پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور ایس ایس پی ٹھٹھہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پولیس گردی کا نوٹس لے کر انصاف کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button