پاکستان اور افغانستان کے بیچ دما دم مست قلندر شروع، انجام کیا ہو گا؟

تحریر:نہال معظم

​تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتی دشمنی اب سرحدوں کی لکیریں پھلانگ کر بارود کے شعلوں میں بدل چکی ہے اور جس ہولناک ٹکراؤ کا خدشہ برسوں سے ظاہر کیا جا رہا تھا، آج وہ ‘کھلی جنگ’ کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دو ٹوک اعلان کہ "اب تمہارے اور ہمارے درمیان کھلی جنگ ہے”، اس بات کی تصدیق ہے کہ تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں اور دہائیوں پر محیط ‘بھائی چارے’ کا لبادہ تار تار ہو چکا ہے۔ یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ ایک ایسے لاوے کا پھٹنا ہے جو تحریک طالبان پاکستان کی مسلسل پشت پناہی، ڈیورنڈ لائن پر ہونے والی اشتعال انگیزیوں اور کابل کے بدلے ہوئے تیوروں کی صورت میں عرصے سے پک رہا تھا۔ آپریشن ‘غضب للحق’ کا آغاز اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام آباد نے اب ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کی پالیسی کو خیرباد کہہ کر ‘مارو اور مٹاؤ’ کا راستہ چن لیا ہے، جہاں کابل، قندھار اور پکتیا جیسے مراکز پر ہونے والے فضائی حملے افغان طالبان کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان کی سلامتی پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس صورتحال کا پس منظر دیکھا جائے تو یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ جس افغانستان کی خاطر پاکستان نے عالمی برادری سے بیر مول لیا، آج وہی سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا سب سے بڑا مرکز بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے اب پاکستان کے صبر کا امتحان بن چکے ہیں۔ میدان جنگ سے آنے والی خبریں لرزہ خیز ہیں جہاں ایک طرف 133 افغان طالبان کی ہلاکت کے دعوے ہیں تو دوسری طرف افغان حکام کی جانب سے جوابی حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔

​اس ‘دما دم مست قلندر’ کے سیاسی اور معاشی اثرات اتنے گہرے ہیں کہ ان کا سایہ آنے والی کئی دہائیوں تک پیچھا کرے گا، کیونکہ جب دو پڑوسی دست و گریبان ہوتے ہیں تو صرف بارود نہیں پھٹتا بلکہ معیشتوں کے جنازے بھی نکلتے ہیں۔پاکستان جو پہلے ہی آئی ایم ایف کے کڑے پروگراموں اور مہنگائی کے طوفان سے نبرد آزما ہے ایک مکمل جنگی محاذ کا کھلنا کسی معاشی  مشکلات سے کم نہیں ہے،دفاعی بجٹ میں ممکنہ اضافہ ترقیاتی منصوبوں کا گلا گھونٹ دے گا اور غیر ملکی سرمایہ کار اس غیر یقینی صورتحال میں رختِ سفر باندھ لیں گے۔

افغانستان جو کہ عالمی پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی ایک ‘آئسولیٹڈ جزیرہ’ بن چکا ہے، پاکستان کے ساتھ تجارت اور راہداری (Transit) کے راستے بند ہونے سے قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر سکتا ہے، جہاں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قلت انسانی المیے کو جنم دے گی۔ سیاسی طور پر، یہ کشیدگی خطے میں نئے اتحادوں کو جنم دے گی،بھارت اس صورتحال کو پاکستان کو دو محاذوں پر الجھانے کے سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ چین کے لیے سی پیک (CPEC) کی سیکیورٹی کے خدشات پیدا ہوں گے کیونکہ جنگ زدہ سرحدیں کبھی بھی تجارتی شاہراہوں کی ضمانت نہیں دے سکتیں

۔ دنیا اس وقت ان دونوں ایٹمی اور نیم ایٹمی اثر و رسوخ رکھنے والے پڑوسیوں کو ایک ایسی ہولناک کھائی کے دہانے پر دیکھ رہی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ واشنگٹن سے لے کر ماسکو تک، عالمی دارالحکومتوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو اس ‘خلا’ میں داعش (ISKP) جیسے شدت پسند گروہ اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ ان کا نشانہ صرف یہ دو ملک نہیں بلکہ پوری دنیا ہوگی۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تصادم کو ایک نئے مہاجرین کے سیلاب اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جہاں بارود کی بو کے پیچھے سسکتی انسانیت کسی مسیحا کی منتظر ہے۔

​انجامِ کار، اگر یہ جنگ کسی منطقی انجام یا فوری عالمی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی تک نہ پہنچی، تو ہم ایک ایسے جنوبی ایشیا کو ابھرتے دیکھیں گے جہاں ریاستیں کمزور اور غیر ریاستی عناصر طاقتور ہوں گے، اور جس کی قیمت آنے والی نسلیں اپنی محرومیوں سے چکائیں گی۔ سرحدوں پر ٹینکوں کی گھن گرج اور فضاؤں میں گونجتے طیارے اس بات کا اعلان ہیں کہ اب واپسی کا راستہ مسدود ہو چکا ہے اور اگر عقل و دانش نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، جہاں جیت کسی کی بھی ہو، ہار صرف امن اور عام آدمی کی ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button