جنسی بے یقینی:کنورژن تھراپی اور جینڈر سرجری کےنام پر ہولناک تجربے

تحریر:نہال ممتاز
انسانی وجود کی ساخت میں چھپا کوئی باریک حیاتیاتی نقص ہو یا روح اور جسم کے درمیان پیدا ہونے والی کوئی ان کہی خلیج، آج یہ معاملہ صرف مسیحائی تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ایسی عالمی نظریاتی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سائنس مصلحتوں کی قیدی بن گئی ہے۔ حال ہی میں "دی اٹلانٹک” (The Atlantic) میں شائع ہونے والی رپورٹ نے اس وقت پوری دنیا میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا جب امریکی پلاسٹک سرجنز کی سب سے بڑی تنظیم (ASPS) نے خود اپنے ہی ادارے کے خلاف کھڑے ہو کر یہ سنسنی خیز اعتراف کیا کہ نابالغ بچوں کے جسموں کو جراحی کے ذریعے بدلنے کے حق میں موجود سائنسی ڈیٹا "انتہائی کمزور اور غیر یقینی” ہے۔ یہ اعتراف دراصل اس سائنسی جلد بازی پر پہلا بڑا طمانچہ ہے جس نے کچی عمر کے بچوں کے جسموں کو تجربہ گاہ بنا رکھا ہے۔
لیکن المیہ صرف آپریشن تھیٹر کی چھری تک محدود نہیں؛ اس تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ جہاں ایک طرف ادھوری تحقیق پر مبنی سرجریز کے خطرات ہیں، وہیں دوسری طرف ‘کنورژن تھراپی’ کے نام پر ہونے والا وہ انسانیت سوز تشدد ہے جسے کونسل آف یورپ نے بدترین ظلم قرار دے کر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ نفسیاتی درستگی کے نام پر بجلی کے جھٹکے دینا، شدید ذہنی اذیت اور روح کو کچل دینے والے طریقے کسی بھی طرح مسیحائی نہیں کہلا سکتے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے 2019 میں جینڈر آئیڈنٹیٹی کو ذہنی بیماریوں کی فہرست سے نکال کر اسے ‘جنسی صحت’ کے زمرے میں صرف اس لیے منتقل کیا تھا تاکہ ان افراد کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور سماجی بدنامی کو روکا جا سکے۔ مگر افسوس کہ میڈیکل سائنس ابھی تک اس معمے کا کوئی حتمی علاج ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے، اور اسی ناکامی کے ملبے تلے وہ انسان دب گیا ہے جو شناخت کی شدید اذیت (Gender Dysphoria) میں مبتلا ہے۔
مذہبی اور اخلاقی طور پر اگرچہ انسانی جسم ایک امانت ہے اور اس میں اپنی مرضی سے بڑی تبدیلیاں بگاڑ تصور کی جاتی ہیں، لیکن اسلام سمیت تمام بڑے مذاہب ہمدردی اور عدل کا درس دیتے ہیں۔ اگر کوئی فرد پیدائشی طور پر کسی حیاتیاتی نقص یا ہارمونل عدم توازن کا شکار ہے، تو وہ سزا یا تشدد کا نہیں بلکہ ایک ایسی آزمائش کا حامل ہے جس میں اسے سہارے کی ضرورت ہے۔ کسی معذور فرد کو ہم گنہگار نہیں کہتے، تو پھر ان افراد کو بجلی کے جھٹکوں یا سماجی بائیکاٹ کی بھینٹ چڑھانا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ مذہب ہمیں کسی بے بس انسان پر ظلم کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک باوقار زندگی فراہم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ طب، قانون اور سماجی نظریات ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ چکے ہیں۔ ایک طرف آپریشن تھیٹر کی وہ جلد بازی ہے جس پر اب خود سرجنز سوال اٹھا رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ سفاکانہ تھراپیز ہیں جو انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہیں۔ حل نہ تو اس اندھی تقلید میں ہے جو کچی عمر میں ناقابلِ واپسی جسمانی فیصلے کر ڈالے، اور نہ ہی اس وحشت میں ہے جو علاج کے نام پر انسانی وقار کو نیلام کرے۔ اصل راستہ ایک ایسی متوازن حکمتِ عملی میں ہے جہاں سخت سائنسی تحقیق کو بنیاد بنایا جائے، نفسیاتی معاونت کو مرکزی حیثیت دی جائے اور ہر قدم پر انسانی ہمدردی کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ جب تک یہ مسئلہ سیاسی نعروں اور نظریاتی فتح کی جنگ بنا رہے گا، تب تک ہسپتال مسیحائی کے بجائے اکھاڑے بنے رہیں گے اور سب سے بڑا نقصان اس انسان کا ہوگا جو صرف ایک باوقار اور پرسکون زندگی گزارنے کا حق مانگ رہا ہے۔



