ایلینز فائلز ڈی کلاسیفائی؟ ناقابل یقین سچائی یا تاریخی سازش

نہال ممتاز
خلاؤں کی وسعتوں میں کیا چھپا ہے اور کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس نے صدیوں سے انسانی تخیل کو مہمیز دی ہے، لیکن فروری 2026 کے ان ہنگامہ خیز ایام میں یہ بحث محض فلسفیانہ نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست کا مرکز بن گئی ہے۔ سابق صدر باراک اوباما کے حالیہ انٹرویو نے جس چنگاری کو جنم دیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام خفیہ فائلوں کو "ڈی کلاسیفائی” کرنے کا اعلان کر کے اسے ایک شعلہ بنا دیا ہے۔ یہ محض کچھ پرانی تصویروں یا دھندلی ویڈیوز کے اجراء کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی تاریخ کے اس سب سے بڑے پردے کو اٹھانے کی کوشش ہے جس کے پیچھے دہائیوں سے "ایریا 51” اور "روزویل” جیسے پراسرار قصے دفن ہیں۔
عالمی میڈیا ہاؤسز اور مبصرین اس وقت اس غیر متوقع اعلان کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ایک بڑا حلقہ اسے "صدی کا سب سے بڑا انکشاف” قرار دے رہا ہے، جبکہ کچھ اسے ایک سوچی سمجھی سیاسی چال بازی سمجھ رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام کا ایک بڑا مقصد شفافیت کے نام پر اس "ڈیپ سٹیٹ” یا خفیہ ریاستی نظام کو بے نقاب کرنا ہے جس پر ٹرمپ ہمیشہ سے شک کرتے رہے ہیں۔ ان فائلوں کے منظرِ عام پر آنے سے دہائیوں پر محیط وہ رازداری ختم ہو جائے گی جس نے پینٹاگون اور انٹیلی جنس اداروں کو ایک ناقابلِ تسخیر ہالہ فراہم کر رکھا تھا۔
دوسری جانب، عالمی میڈیا میں یہ بحث بھی زوروں پر ہے کہ یہ اعلان دراصل عوامی توجہ کو موجودہ زمینی مسائل اور معاشی بحرانوں سے ہٹا کر آسمانی معموں کی طرف مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے۔ بین الاقوامی ماہرینِ نفسیات اور سیاسی تجزیہ کار اسے "عظیم توجہ ہٹاؤ” قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، اس کے دفاعی اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ اگر امریکہ ایسی حساس معلومات عام کرتا ہے، تو روس اور چین جیسے حریف ممالک اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھ کر ایک نئی اور خطرناک "ٹیکنالوجیکل ریس” کا آغاز کر سکتے ہیں۔
حقیقت جو بھی ہو، یہ انکشافات عالمی معیشت، مذہب اور سائنس پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
تاہم، فی الحال حقیقت یہ ہے کہ فائلوں کے جائزے کا عمل شروع ہوا ہے، انکشاف ابھی باقی ہے، اور انسانی تجسس اور سنسنی کے درمیان کشمکش جاری ہے۔



