انتخابی اصلاحات کیلئے30رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانےکافیصلہ،اسپیکرایازصادق کے وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈرکوخطوط

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق انتخابی اصلاحات کے لیے 30 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں قومی اسمبلی کے 20 ارکان اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔
کمیٹی میں قومی اسمبلی سے حکومتی اتحاد کے 15 اور اپوزیشن کے 5 ارکان شامل کیے جائیں گے، جبکہ چیئرمین سینیٹ کمیٹی کے لیے 10 ارکان کے نام بھجوائیں گے، جن میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے اپوزیشن وفد سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر تمام جماعتوں سے دونوں ایوانوں کی انتخابی اصلاحاتی کمیٹیوں میں شمولیت یقینی بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو کمیٹی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے تحفظات کھل کر پیش کرسکے اور انہیں دور کرنے کے لیے مشاورت ہوسکے۔ ان کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے تجاویز سنیں اور مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی تصدیق کی ہے کہ قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جاچکی ہے۔



