خلیجی ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھائیں،بیرونی فوجی انحصار کم کریں،عمانی وزیرِ خارجہ

لندن(جانوڈاٹ پی کے)عمانی وزیرِ خارجہ بدرالبوسعیدی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمے داری خود اٹھانا ہو گی، بیرونی طاقتوں پر فوجی انحصار کم کرنا ہو گا۔

بدر البوسعیدی نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے گِرٹن کالج میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے نیا علاقائی سلامتی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے، یہ نظام ایران سمیت آٹھوں خلیجی ممالک پر مشتمل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی سلامتی کے نئے نظام کی بنیاد آٹھوں ممالک کا عدم جارحیت کا معاہدہ ہونا چاہیے، خطے کی سلامتی کے معاملات میں ایران کو نظر انداز کرنے کے منفی نتائج سامنے آئے ہیں۔

عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے 6 ممالک، عراق، ایران کو ملا کر علاقائی سلامتی کے نئے نظام پر بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو شامل کیے بغیر خلیجی سلامتی کا کوئی بھی نظام غیر مستحکم اور کمزور ہو گا، ایران کو سلامتی نظام سے نکال کر خطے کے لیے بطور خطرہ بھی پیش کیا گیا، آٹھوں خلیجی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کا معاہدہ علاقائی سلامتی کے نئے نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

بدرالبوسعیدی نے کہا کہ ایران اور خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان بنیادی نوعیت کی دشمنی کا تصور درست نہیں، عرب اور فارسی قومیں صدیوں سے خلیج کے اطراف پُرامن طور پر رہتی آئی ہیں، خلیج کے ساحلی خطے کا تقریباً نصف حصّہ ایران سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کا علاقائی تعلقات پر اثر انداز ہونا معاملات کے حل میں مشکلات کی وجہ ہے، علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی کی ذمے داری اجتماعی طور پر اٹھانے اور اتفاقِ رائے میں ناکام رہی ہیں۔

عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خطے سے باہر کے دوستوں، اتحادیوں نے خلیجی سلامتی کے لیے مادی اور سیاسی حمایت کی پیشکش کی بھاری قیمت چکانا پڑی، سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کی طویل سیاسی قیمت بہت زیادہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے سے باہر کے ممالک کے ساتھ شراکت داری ختم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ بیرونی ممالک سے شراکت داری کا مرکز فوجی کے بجائے اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری ہونا چاہیے۔

بدرالبوسعیدی نے کہا کہ ایران امریکا جوہری مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی تھی، معاہدے کی امید تھی، ایران امریکا دوبارہ مذاکرات کا فیصلہ کریں تو معاہدے کے بنیادی نکات اب بھی موجود ہیں، موجودہ صورتِ حال میں مذاکرات پر واپسی کا راستہ امریکا ایران کے لیے انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمان ایران کی مشاورت کے سبب آبنائے ہرمز سے متعلق عارضی انتظام کا خاکہ تیار ہوا، آبنائے ہرمز سے متعلق عارضی انتظام پر عمل درآمد کے لیے ایران امریکا کو لچک دکھانا ہو گی اور عملی سمجھوتا کرنا ہو گا۔

مزید خبریں

Back to top button