مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف آج دنیا بھر میں یومِ سیاہ منایا جارہا ہے

مظفرآباد (جانوڈاٹ پی کے) مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر کشمیری عوام بھارتی قبضے، ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حقِ خودارادیت کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاریخی واقعات کے مطابق اکتوبر 1947ء کے آخری ایام اور نومبر کے ابتدائی دنوں میں ڈوگرہ فورسز اور ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں جموں کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا۔ اس سانحے میں لاکھوں افراد کے شہید ہونے اور بے شمار خاندانوں کے بے گھر ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔

کشمیری قیادت کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط اور جبر کے خلاف جدوجہد کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، تاہم کشمیری عوام اب بھی اپنے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ کشمیریوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے ریاست کو ایک بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق پر مختلف پابندیاں عائد ہیں۔

کشمیری حلقوں کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادت کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جبکہ 1990ء سے اب تک 97 ہزار سے زائد کشمیریوں کے جاں بحق ہونے کے اعدادوشمار بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

حریت قیادت سمیت ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریوں اور قید کا معاملہ بھی مسلسل تشویش کا باعث ہے۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت کے سخت اقدامات کے باوجود آزادی کی تحریک ختم نہیں ہوئی اور کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق پر قائم ہیں۔

یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل، انسانی حقوق کے تحفظ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button