متحدہ عرب امارات کا موسمیاتی تبدیلیوں سے صحت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے 6 سالہ قومی منصوبہ شروع

ابوظہبی (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے شدید گرمی، نمی، گردوغبار اور فضائی آلودگی سمیت غیر معمولی موسمی حالات کے صحت پر اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے 6 سالہ قومی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
وزارت صحت و تحفظِ عامہ کے مطابق ہیلتھ سیکٹر کلائمیٹ ایڈاپٹیشن پلان 2026 سے 2031 تک جاری رہے گا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کی بروقت نشاندہی، بیماریوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں طبی سہولیات کی فعالیت یقینی بنانا ہے۔
منصوبے میں گرمی سے متعلق بیماریوں، دل اور سانس کے امراض، مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں، آلودہ پانی اور خوراک سے لاحق خطرات اور ذہنی صحت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق شدید گرمی اور زیادہ نمی ہیٹ اسٹروک سمیت دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ گردوغبار اور خراب فضائی معیار دمے اور سانس کی بیماریوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
وزیر صحت و تحفظِ عامہ احمد علی الصایغ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث صحت کو لاحق خطرات بڑھ رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ بیماریوں اور ممکنہ طبی ہنگامی حالات کی پیشگی نشاندہی کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
قومی منصوبے کے تحت گرمی اور فضائی آلودگی سے متعلق پیشگی انتباہی نظام بہتر بنایا جائے گا، جبکہ بیماریوں کی نگرانی، صحت اور ماحولیاتی معلومات کے تبادلے اور ہنگامی طبی انتظامات کو مؤثر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ طبی سامان کی بلاتعطل فراہمی، اسپتالوں کی تیاری اور بنیادی طبی سہولیات کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ شدید موسمی حالات میں شہریوں کو طبی خدمات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
وزارت صحت کے معاون انڈر سیکریٹری حسین الرند کے مطابق منصوبے کے اگلے مرحلے میں متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری، طبی عملے کی تربیت، تحقیق اور صحت کی سہولیات کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے صحت پر اثرات کم کرنا، بیماریوں کی روک تھام اور ہنگامی حالات میں طبی نظام کی استعداد بڑھانا ہے۔



