امریکی ڈاک ٹکٹوں کا 35 ارب روپے کا فراڈ کرنے والا ملزم فہیم اکرم 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کے ذریعے مبینہ طور پر 35 ارب روپے کا فراڈ کرنے والے ملزم فہیم اکرم کا مقامی عدالت نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
لاہور کی ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی، جہاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کرتے ہوئے 26 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔
دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اگست 2023 سے مبینہ طور پر جعلی ویب سائٹ چلا رہا تھا، جس کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے گئے۔ تفتیشی حکام کے مطابق مبینہ فراڈ کے لیے خاندان کے 16 بینک اکاؤنٹس بھی استعمال کیے گئے۔
این سی سی آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے اور فراڈ نیٹ ورک کے دیگر پہلوؤں کا سراغ لگانے کے لیے ملزم کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے پانچ روزہ ریمانڈ منظور کیا۔
امریکی پوسٹل سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے نقصان کا الزام
گزشتہ ماہ امریکی ریاست فلوریڈا میں فہیم اکرم کے خلاف امریکی پوسٹل سروس کو مبینہ طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، یعنی تقریباً 35 ارب پاکستانی روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
امریکی اٹارنی کے دفتر کے مطابق ملزم کی بنائی گئی ویب سائٹ پر ڈاک کے وزن اور منزل سے قطع نظر ہر جعلی ٹکٹ کی قیمت دو ڈالر مقرر کی گئی تھی، جو امریکی پوسٹل سروس کے اصل ڈاک ٹکٹوں کی قیمت سے کم تھی۔ حکام کے مطابق اس طریقے سے تقریباً 51 لاکھ جعلی ٹکٹ فروخت کیے گئے۔
امریکی حکام کی تحقیقات کے مطابق تقریباً 5,200 افراد نے اپنے پارسل اور دیگر سامان بھیجنے کے لیے ملزم کی ویب سائٹ سے جعلی ٹکٹ خریدے، جس کے نتیجے میں امریکی پوسٹل سروس کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔
گرفتاری کی اطلاع پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان
امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے ملزم کی گرفتاری سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ امریکی ڈالر انعام دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
امریکی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ پوسٹل سروس کے ساتھ فراڈ کرنے والوں کو تلاش کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اب لاہور کی عدالت سے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد این سی سی آئی اے مبینہ فراڈ کے طریقۂ کار، مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے بارے میں تحقیقات کرے گی۔



