روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات نومبر میں بحال ہونے کا امکان

سینٹ پیٹرزبرگ (مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے امریکا اور یوکرین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات نومبر کے آغاز میں دوبارہ شروع کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کر دی ہے، جبکہ یوکرین تنازع کے حل، سلامتی کے نظام اور روس امریکا اقتصادی تعاون سمیت اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان سینٹ پیٹرزبرگ میں تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس میں یوکرین تنازع کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کی بحالی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات کھلے اور پیشہ ورانہ ماحول میں ہوئی۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے 10 نومبر کے قریب سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اصولی آمادگی ظاہر کی، جن کا بنیادی مقصد روس اور یوکرین کے لیے سلامتی کے نظام کے قیام پر بات چیت کرنا ہوگا۔
یوری اوشاکوف کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے روسی صدر کو اوسلو میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، یورپی ممالک، نیٹو اور یورپی کمیشن کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔ امریکی نمائندے نے تنازع کے حل کے لیے کیف اور یورپی ممالک کی جانب سے پیش کردہ نئی تجاویز اور طریقہ کار کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے تسلسل میں یوکرین میں پائیدار امن کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
روسی صدر کے معاون نے دعویٰ کیا کہ پوتن نے ملاقات کے دوران یوکرین کے محاذ پر روسی افواج کی پیش قدمی اور اسٹریٹجک برتری سے متعلق امریکی نمائندے کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر یوکرین کی دفاعی صنعت، توانائی کی تنصیبات اور رسد کے مراکز پر روسی فوج کے حملوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
ملاقات میں روس سے امریکا اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ یہ معاہدہ ان کے مشترکہ مفادات کے ساتھ عالمی ایندھن کی منڈی میں طلب اور رسد کو مستحکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی ڈیزل پر بعض امریکی پابندیوں میں چھوٹ کے بعد معاہدے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔
روسی صدارتی معاون نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑے مشترکہ اقتصادی منصوبوں اور انٹیلی جنس اداروں کی سطح پر تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق بعض اقتصادی منصوبے آغاز کے قریب ہیں، جو روس اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ملاقات میں نومبر کے دوران چین میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ممکنہ سہ فریقی ملاقات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پوتن نے اس حوالے سے بعض عملی تجاویز پیش کیں، جبکہ تینوں ممالک کی قیادت کے درمیان ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پوتن اور وٹکوف کی ملاقات کو بامقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت تقریباً تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی خصوصی نمائندے کے آئندہ دورۂ روس کے حوالے سے تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
پیسکوف نے تصدیق کی کہ امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر نے بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات میں شرکت کی، جبکہ روسی خصوصی صدارتی نمائندے برائے سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کریل دمترییف نے اس ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا۔



