پنجاب پولیس کے 14 سینئر افسران منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی تربیت کے لیے چین جائیں گے

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب پولیس کے 14 سینئر افسران چین میں منی لانڈرنگ کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے جدید طریقوں پر اعلیٰ سطحی تربیت حاصل کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق تربیتی پروگرام 28 اکتوبر سے 10 نومبر تک جاری رہے گا، جس میں چینی ماہرین پاکستانی پولیس افسران کو مالی جرائم کی نشاندہی، غیر قانونی رقوم کی منتقلی روکنے اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا سراغ لگانے کے جدید طریقوں سے آگاہ کریں گے۔

آئی جی پنجاب نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈی آئی جی، ایس ایس پی، ایس پی اور اے ایس پی رینک کے 14 افسران کو اس تربیتی پروگرام کے لیے نامزد کیا ہے۔ نامزد افسران میں ڈی آئی جی حسن حبیب امتیاز اور ڈی آئی جی محمد طیب حفیظ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور، ملتان، سیالکوٹ اور سہالہ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران بھی تربیت میں شرکت کریں گے، جبکہ ایس پی عدیل شکور کو ریزرو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

تربیت اور سیمینار کے دوران غیر قانونی مالی لین دین کی روک تھام، مالی جرائم کی نشاندہی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کا سراغ لگانے سے متعلق جدید طریقہ کار پر توجہ دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی مالی وسائل کے جرائم اور دیگر منفی سرگرمیوں میں استعمال کی روک تھام کے لیے پولیس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اکتوبر 2022 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکل چکا ہے۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں یہ تربیتی پروگرام مالی جرائم سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی استعداد بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

مزید خبریں

Back to top button