ایل پی جی کی قیمتیں بے قابو، سرکاری نرخ 279 روپے مگر فروخت 480 روپے فی کلو تک پہنچ گئی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، سوئی گیس کے کم پریشر اور قلت کے باعث شہری مہنگے داموں متبادل ایندھن خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی مبینہ بلیک مارکیٹنگ بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم پرچون مارکیٹ میں یہی گیس 430 سے 480 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ سرکاری نرخوں اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان بڑے فرق نے گھریلو صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سوئی گیس کے کم پریشر اور قلت کے باعث شہریوں کو کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل پی جی کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک طرف سوئی گیس کے بھاری بل ادا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر بھی مجبور ہیں۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پہلے ہی سفید پوش طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا فرق نے پریشانیاں مزید بڑھا دی ہیں۔

صارفین نے شکایت کی ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور سرکاری نرخوں پر فروخت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں کو مقررہ سرکاری نرخوں کے مطابق لانے کے لیے فوری کارروائی کی جائے، مبینہ بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیا جائے اور صارفین کو مقررہ قیمت پر گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button