موبائل اشتہارات کے پیچھے جاسوسی کا مبینہ جال بے نقاب،1لاکھ20ہزار ویب سائٹس اور75ہزارایپس تک رسائی کاانکشاف

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب اور نیویارک کی اشتہاری سکیورٹی فرم کنفائنٹ نے الگ الگ تحقیقات میں اس نیٹ ورک کے ممکنہ استعمال کی نشاندہی کی۔ رپورٹس کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہاری نظام کے ذریعے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی ’کینڈیرو‘ سمیت نگرانی سے وابستہ دیگر کمپنیوں کو مختلف اشتہاری پلیٹ فارمز تک رسائی ملی، جن میں گوگل، کامکاسٹ اور روسی کمپنی یانڈیکس کے نظام بھی شامل تھے۔
سٹیزن لیب کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہارات شراکت داروں کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ویب سائٹس اور 75 ہزار ایپس تک پہنچے۔ ان میں عام استعمال کی مصنوعات کے اشتہارات بھی شامل تھے، جس سے بظاہر معمول کی آن لائن سرگرمیوں اور ممکنہ نگرانی کے درمیان تعلق پر سوالات اٹھے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ بعض اشتہارات کے ذریعے مخصوص ویب سائٹس پر آنے والے یا مخصوص ایپس استعمال کرنے والے افراد کی شناخت اور سرگرمیوں کی نگرانی ممکن ہو سکتی تھی۔ بعض صورتوں میں اسمارٹ فون صارفین کے فون نمبرز حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی، جبکہ رپورٹ کے مطابق کچھ حالات میں متعلقہ ویب سائٹ پر اشتہار کا لوڈ ہونا ہی نگرانی کے عمل کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔
تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بعض اشتہارات کینڈیرو کے اسپائی ویئر کو صارفین کے آلات میں نصب کرنے میں مدد کے لیے استعمال کیے گئے۔ تاہم کنفائنٹ کے مطابق کینڈیرو سے منسلک اشتہارات ڈسکور ٹیک کے مجموعی اشتہارات کا انتہائی معمولی حصہ تھے۔ اس لیے ان نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کمپنی کے تمام اشتہارات یا ہر سروس جاسوسی کے لیے استعمال ہوئی۔
سٹیزن لیب کے سینئر محقق وولفی کرسٹل نے رائٹرز سے گفتگو میں خبردار کیا کہ آن لائن اشتہارات کا موجودہ نظام سکیورٹی کے لیے بنیادی نوعیت کا خطرہ بن سکتا ہے، جس سے ریاستیں، نجی ادارے اور سول سوسائٹی سمیت مختلف فریق متاثر ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کینڈیرو کو امریکی حکومت نے 2021 میں بلیک لسٹ کیا تھا۔ تازہ تحقیقات نے ڈیجیٹل اشتہارات کے ذریعے نگرانی اور اسپائی ویئر کے ممکنہ استعمال پر تشویش بڑھا دی ہے، تاہم سامنے آنے والے دعووں اور ہر اشتہار کے حقیقی استعمال کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔



