تھرپارکر کی تحصیل کلوئی کی ڈیڑھ لاکھ آبادی بنیادی طبی سہولیات سے محروم، رورل ہیلتھ سینٹر بجٹ سے محروم

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کی تحصیل کلوئی کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔ سال 2015ء میں بنیادی مرکز صحت (بی ایچ سی) کلوئی کو اپ گریڈ کرکے رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) کا درجہ دیا گیا تھا، تاہم مطلوبہ بجٹ جاری نہ ہونے کے باعث اسپتال تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا۔ ایمرجنسی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو تقریباً 60 کلومیٹر دور بدین یا مٹھی منتقل کرنا پڑتا ہے، جبکہ تاخیر کے باعث متعدد مریضوں کی راستے میں موت واقع ہونے کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رورل ہیلتھ سینٹر کلوئی کے لیے عمارت، عملے کی اسامیاں اور مختلف طبی سہولیات منظور کی گئی تھیں۔ اسپتال میں الٹراساؤنڈ، ایکسرے مشین اور لیبارٹری ٹیکنیشن کی تعیناتی جیسی سہولیات فراہم کیے جانے کے باوجود بجٹ جاری نہ ہونے کے باعث اسپتال کو پی پی ایچ آئی کے تحت بنیادی مرکز صحت کے طور پر چلایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں عوام اپ گری شدہ اسپتال کی مکمل سہولیات سے محروم ہیں۔اسپتال صبح سے سہ پہر تین بجے تک محدود رہنے کے باعث شام اور رات کے اوقات میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حادثات، اچانک بیماریوں اور دیگر ہنگامی صورتحال میں مطلوبہ ڈاکٹروں اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کو دوسرے شہروں میں منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب اسپتال کی ایکسرے مشین کئی سال سے خراب پڑی ہے، جبکہ الٹراساؤنڈ آپریٹر اور ڈاکٹروں کی کمی، ڈینٹل سرجن کی خالی اسامی اور جنرل فزیشن کی عدم دستیابی کے باعث علاج معالجے کا نظام متاثر ہورہا ہے۔ اسپتال کی او پی ڈی میں روزانہ تقریباً پانچ سو مریضوں کی آمد کے باعث موجودہ عملے پر کام کا شدید دباؤ ہے اور مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ادویات کی قلت بھی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ مریضوں کی شکایت ہے کہ ہر ماہ کی 20 تاریخ کے بعد اسپتال میں ادویات ختم ہوجاتی ہیں، جس کے باعث غریب مریضوں کو باہر سے مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں۔ اس صورتحال میں پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار خاندان مزید پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تحصیل کے دیہی علاقوں میں ڈسپنسریوں کی غیر فعالیت اور بعض مقامات پر تعینات عملے کی غیر حاضری کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق آس پاس کے دیہات کے علاوہ ضلع بدین سے متصل دو یونین کونسلوں کی بڑی آبادی کا انحصار بھی کلوئی اسپتال پر ہے، جس کے باعث محدود طبی سہولیات مریضوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ کلوئی کے سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے سندھ حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رورل ہیلتھ سینٹر کے لیے منظور شدہ بجٹ فوری جاری کرکے اسپتال کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی خالی اسامیاں پُر کی جائیں، خراب ایکسرے مشین کی مرمت یا نئی مشین فراہم کی جائے، الٹراساؤنڈ اور لیبارٹری کی سہولیات بحال کی جائیں، ڈینٹل سرجن تعینات کیا جائے اور ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کو 24 گھنٹے فعال رکھنے، مکمل ایمرجنسی وارڈ قائم کرنے، ایمبولینس اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کی غیر فعال ڈسپنسریوں کو بھی بحال کیا جائے، تاکہ مریضوں کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنے اور راستے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کے خطرات سے بچایا جاسکے۔مقامی افراد کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی کے لیے محدود اوقات میں کام کرنے والا اور بنیادی سہولیات سے محروم اسپتال عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کلوئی میں صحت کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرکے شہریوں کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button