سندہ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور سندہ حکومت کے وفد کے مابین مذاکرات کامیاب

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے)سندہ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں ۔ کرپشن اور من پسند امیدواروں کو کامیاب کرانے اور میرٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف حیدرآباد سے کراچی تک پیدل مارچ کرنے والے طلبہ اور سندھ حکومت کے ایک وفد جس میں صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی اور پ پ پ سندہ کے رھنما عاجز دامراھ شامل تھے کی جانب سے حیدرآباد سے وایہ ٹھٹھہ نیشنل ھائی وے کراچی وزیراعلی’ ھائوس کی طرف مارچ کرنے والے سندھ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مطالبات کے حل کے لئے مذاکرات کئے گئے جو کامیاب رہے اس موقع پر حکومتی وفد اور لانگ مارچ کرنے والی سندہ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی میں شامل طلبہ کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کا اعلان پریس کلب ٹھٹھہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا
اس موقع پر حکومتی وفد کا کہنا تھا کے سندھ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے مطالبات جائز اور سندھ کے نوجوانوں کے مطالبات ہیں، سندہ کے نوجوان ایک بڑے کاز کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اس موقع پر عاجز دامراہ نے کہا کے وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر صوبائی وزیر ریاض حسین شاہ شیرازی کے ساتھ ٹھٹھہ پہنچے ہیں، جہاں سندہ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سے ملاقات کی سرکاری وفد نے کہا کے سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے سندھ حکومت سندھ پبلک سروس کمیشن کو بہتر ادارہ بنانے، اس میں بہترین ساکھ رکھنے والے افسران لانے اور ادارے کی مجموعی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے ریفارمز کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی سندھ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی اور سندھ کے نوجوانوں کو سننے کے بعد اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی جس کے بعد کابینہ کی منظوری کے بعد سندھ می تمام ون پیپر امتحانات کمپیوٹر بیسڈ امتحان (سی بی ٹی) کے تحت لیے جائیں گے اور امتحان ختم ہونے کے فوراً بعد پرنٹ فارم میں امیدواروں کو دیا جائے گا۔
مشترکہ مقابلے کے امتحان کی اسکریننگ ٹیسٹ پاس کرنے کے نمبر 33 فیصد رکھے جائیں گے، جو سی سی ای 2026 کے امتحان پر بھی لاگو ہوں گے مشترکہ مقابلے کے امتحان میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کی طرح انٹرویو کے نمبر تحریری امتحان کا 25 فیصد رکھے جائیں گے سندھ اسٹوڈنٹ ایکشن کی کور کمیٹی اور احتجاج میں شامل تمام امیدواروں کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن اور سندھ حکومت کی جانب سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی احتجاج کرنے والے امیدواروں کو اگر انٹرویو میں نشانہ بنایا گیا تو ان کے انٹرویو ریفارمز کمیٹی کے سامنے ری ویو کیے جائیں گے، یہ مطالبات 20 اکتوبر کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں بھی رکھے جائیں گے، جن پر عملدرآمد کیا جائے گا اس موقع پر سندہ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رھنمائوں نے اگر 20 اکتوبر کو مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ٹھٹھہ سے دوبارہ کراچی کی طرف مارچ شروع کیا جائے گا،۔



