عمران خان نے کئی بار میرے سامنے بامعنی مذاکرات کرنے کا کہا، علی محمد خان

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کئی بار ان کے سامنے بامعنی مذاکرات کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باوجود بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں تھے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ سہیل آفریدی جس روز گرفتار ہوئے، اس رات 11 بجے تک ان کا پارٹی رہنماؤں سے رابطہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسی رات انہوں نے تجویز دی تھی کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر بلایا جائے۔
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تحریک انصاف کو زیادہ تشویش ہے کیونکہ وہ خود بھی اسی صوبے میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں، تاہم ان کی توجہ لانگ مارچ پر مرکوز تھی۔
پی ٹی آئی رہنما نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی گرفتاریوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی وزیراعلیٰ کو اس انداز میں تحویل میں لینے کی مثال انہوں نے نہیں دیکھی اور صوبے پر حکومت کرنے کا اختیار خیبر پختونخوا کے عوام کا ہے۔
علی محمد خان نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے خیبر پختونخوا کے عوام حکومت سے مزید دور ہوئے ہیں۔ ان کے بقول جمہوریت پر شب خون مارنے جیسے اقدامات سے جمہوری نظام کیسے مضبوط ہو سکتا ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف پُرامن احتجاج اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ سہیل آفریدی نے کیا تھا اور ابتدا میں اس معاملے پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت نہیں ہوئی تھی، تاہم 5 اگست کو مارچ کے اعلان کے بعد تمام رہنماؤں نے اس فیصلے کی حمایت کی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے علی محمد خان نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی دعوت پر ہونے والی بات چیت میں تقریباً 95 فیصد معاملات پر اتفاق ہو گیا تھا، تاہم رات کے وقت سکیورٹی سے متعلق معاملات سامنے آنے کے بعد مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا۔
ان کے مطابق مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، انہیں اسپتال منتقل کرنے اور سیاسی معاملات پر گفتگو ہو رہی تھی۔ علی محمد خان نے کہا کہ اگر حکومت سکیورٹی سے متعلق تحفظات سے بروقت آگاہ کر دیتی تو وہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بات کرتے اور پشاور میں ان کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی کوشش کرتے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الگ مذاکرات ہونے چاہئیں تھے، جبکہ سکیورٹی کے معاملات کو علیحدہ طور پر زیرِ بحث لایا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے بعد بھی بات چیت جاری رکھنے کے کئی امکانات موجود تھے، لیکن چار دن ضائع کر دیے گئے۔
علی محمد خان نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بات چیت ختم کر دی جائے، بلکہ ایسے حالات میں وقفہ لے کر دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہوتے تو لانگ مارچ کی وجہ سے مذاکرات کو تعطل کا شکار نہ ہونے دیتے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرسٹر گوہر کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے رابطہ تھا، جبکہ جمعے کو اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات بھی ہوئی اور ہفتے کو بھی رابطے کی کوشش کی جاتی رہی۔



