یوکرین کا فضائی دفاع بروقت روسی میزائلوں کا سراغ لگانے میں ناکام، انٹیلی جنس معلومات نہ ملنے کا اعتراف

ماسکو (ویب ڈیسک) یوکرینی فضائیہ نے اعتراف کیا ہے کہ مغربی شراکت داروں سے انٹیلی جنس معلومات بروقت موصول نہ ہونے کے باعث یوکرین کا فضائی دفاع روسی بیلسٹک میزائلوں کا بروقت سراغ لگانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔

یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری اگنات نے بتایا کہ روسی بیلسٹک میزائلوں کی پرواز سے متعلق ضروری معلومات مغربی شراکت داروں کی جانب سے وقت پر فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے اس صورت حال کی وجہ تکنیکی مسائل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا واقعہ پہلی مرتبہ پیش نہیں آیا۔

ترجمان کے مطابق روسی بیلسٹک میزائلوں کا سراغ اس وقت لگایا گیا جب کیف پر حملہ جاری تھا اور یوکرین کے ریڈار نظام نے خود ان اہداف کی نشاندہی کی۔

اس سے قبل 12 اکتوبر کی شام یوکرینی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ کیف میں فضائی حملے کا انتباہ جاری ہونے سے پہلے ہی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ بعد ازاں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی کہ رات کے وقت ہونے والے دھماکوں سے قبل یوکرین کو اپنے شراکت داروں سے انٹیلی جنس معلومات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے انٹیلی جنس کے تبادلے کو یوکرین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

یوری اگنات کے مطابق ماہرین اس واقعے کی تحقیقات کریں گے اور مسئلے کے حل کے لیے مغربی شراکت داروں سے رابطہ کیا جائے گا۔ یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے ماتحت انسدادِ گمراہ کن اطلاعات کے مرکز نے بھی کہا ہے کہ روسی بیلسٹک میزائلوں سے متعلق انٹیلی جنس ڈیٹا کی ترسیل میں خلل کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مرکز کے مطابق زیرِ غور امکانات میں یہ پہلو بھی شامل ہے کہ یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی عارضی طور پر معطل کی گئی ہو، تاہم اس امکان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کے لیے انٹیلی جنس تعاون محدود کیے جانے کے امکانات سے متعلق بھی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ امریکی جریدے پولیٹیکو نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ یوکرین کو امریکی انٹیلی جنس کی فراہمی روکنے یا ایلون مسک پر اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس منقطع کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر غور کر سکتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز نے نامعلوم یورپی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ یوکرین کو ہتھیاروں کی خریداری کے پروگرام اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔

تاہم یوکرینی وزیر خارجہ آندرے سیبیگا نے کہا ہے کہ کیف کو امریکا سے انٹیلی جنس معلومات بدستور موصول ہو رہی ہیں۔ یورپی کمیشن نے بھی واضح کیا کہ واشنگٹن نے یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون معطل کرنے کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی۔

یوں روسی میزائل حملوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات کی بروقت فراہمی کا معاملہ یوکرین کے فضائی دفاع اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ معلومات کی ترسیل میں خلل کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔

مزید خبریں

Back to top button