سہیل آفریدی کے مارچ پر تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے، گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی آپشنز ہیں، امیر مقام

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مجوزہ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال مارچ آگے نہیں بڑھ رہا اور صرف نئی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی آئین میں موجود آپشنز ہیں، جنہیں بالآخر استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔
پروگرام ’’ٹونائٹ ود ثمر عباس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی راستے موجود ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق حکومت کو حالات کے پیش نظر ان آپشنز پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت اسی صورت میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جب تحریک انصاف دہشت گردی کی واضح مذمت کرے اور دہشت گردوں کو دہشت گرد تسلیم کرے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا آغاز اسی مقام سے ہونا چاہیے جہاں سے ڈیڈلاک پیدا ہوا تھا۔ ان کے مطابق اختلافات کے خاتمے اور بات چیت میں پیش رفت کے لیے دہشت گردی کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سکیورٹی اور دہشت گردی سے متعلق مؤقف اہم معاملہ بنا ہوا ہے، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر بھی سیاسی بحث جاری ہے۔



