شہزادہ ہیری کا کینیڈا منتقل ہونے کے بعد ڈپریشن کا شکار ہونے کا انکشاف

لندن(جانوڈاٹ پی کے)برطانوی شہزادہ ہیری نے انکشاف کیا ہے کہ شاہی خاندان کی ذمے داریوں سے الگ ہونے کے فیصلے سے قبل کینیڈا منتقل ہونے کے بعد میں تقریباً 2 ہفتوں تک ڈپریشن کا شکار رہا اور اس دوران مجھے روزمرہ کے معمولات انجام دینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
شہزادہ ہیری نے نیورو سائنس دان ڈاکٹر میری فرانسس او کونر کی آن لائن ماسٹر کلاس میں شرکت کی۔
اُنہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے دباؤ والے ماحول سے دور ہونے کے چند روز بعد مجھے اچانک محسوس ہوا کہ اس مسلسل دباؤ کی وجہ سے میں معمول کے مطابق کام نہیں کر پا رہا ہوں۔
شہزادہ ہیری نے اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی موت کے دیرپا اثرات پر بھی بات کی جو کہ اگست 1997ء میں پیرس میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ میں طویل عرصے تک جذباتی طور پر متاثر رہا کیونکہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ والدہ کے بغیر خوش رہنا ان سے بے وفائی کے مترادف ہوگا۔
شہزادہ ہیری نے مزید بتایا کہ مجھے لگتا تھا کہ اپنی والدہ کو یاد کرنے اور ان کی جدائی ثابت کرنے کے لیے میرا اداس رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوانی میں 2 مرتبہ جنگ میں حصہ لیتے ہوئے مجھے امید تھی کہ شاید میں اپنے جذبات سے دور بھاگ سکوں گا لیکن وقت کے ساتھ احساس ہوا کہ مجھے تھراپی کی ضرورت ہے۔
شہزادہ ہیری نے مزید بتایا کہ تھراپی نے مجھے والدہ کی موت کے غم کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے میں مدد دی۔
اُنہوں نے بتایا کہ ایک معالج نے مجھے والدہ سے وابستہ یادوں کو دوبارہ محسوس کرنے کے لیے ان کا پرفیوم استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور یہ طریقہ مؤثر ثابت ہوا۔
شہزادہ ہیری نے بتایا کہ اس تجربے کے بعد مجھے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ میری والدہ مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھیں۔
یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل 2019ء میں اپنے بیٹے آرچی کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوئے تھے۔
جنوری 2020ء میں دونوں نے اپنی شاہی ذمے داریوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا جسے برطانوی میڈیا میں’میگزٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔



