عدالتی اصلاحات کے ثمرات سامنے آگئے، سالہا سال سے زیر التوا سنگین مقدمات نمٹا دیے گئے

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی و کیس مینجمنٹ اصلاحات کے ثمرات سامنے آنے لگے، لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ 15 ماہ کے دوران سزائے موت اور عمر قید کے خلاف دائر 945 مرڈر اور کیپیٹل سینٹینس ریفرنسز کے فیصلے کر دیے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات پر نافذ جدید کیس مینجمنٹ سسٹم، عدالتی اصلاحات اور مؤثر مانیٹرنگ کے تحت مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ لاہور سمیت ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی بنچز نے یکم جولائی 2025 سے 30 ستمبر 2026 تک 897 مرڈر ریفرنسز کے فیصلے کیے۔
اسی عرصے کے دوران انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، اینٹی ریپ ایکٹ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت سزائے موت اور عمر قید کے خلاف دائر مزید 48 کیسز کے فیصلے بھی کیے گئے۔
لاہور ہائی کورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 945 سزائے موت اور عمر قید سے متعلق ریفرنسز کے فیصلے کیے گئے، جن میں کئی مقدمات طویل عرصے سے زیر التوا تھے۔
وکلاء نے بڑی تعداد میں سزائے موت کے ریفرنسز کے فیصلوں کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے مطابق جدید عدالتی اصلاحات، کیس مینجمنٹ سسٹم، فعال نگرانی اور شفافیت پر مبنی حکمت عملی کے باعث زیر التوا مقدمات میں کمی لانے اور عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملی ہے، جبکہ وکلاء اور سائلین کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔



