اے آئی کا غلط استعمال خطرناک! حساس ڈیٹا اور سورس کوڈ افشا ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) جنریٹو اے آئی کے غیر محتاط استعمال سے سائبر سیکیورٹی کو لاحق خطرات کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے اداروں کے لیے سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کردی۔
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ شیڈو اے آئی اور غیر منظور شدہ تھرڈ پارٹی اے آئی سروسز کے استعمال سے حساس معلومات، تنظیمی ڈیٹا، سورس کوڈ اور صارفین کی اسناد افشا ہونے کا خطرہ ہے۔
نیشنل سرٹ کے مطابق پرامپٹ انجیکشن، غیر محفوظ اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اے آئی سپلائی چین حملے اداروں کی سائبر سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرات بن سکتے ہیں اور حملہ آوروں کو حساس نظام تک رسائی کا راستہ فراہم کرسکتے ہیں۔
ایڈوائزری میں اداروں کو جنریٹو اے آئی کے قابل قبول استعمال سے متعلق واضح پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سرکاری، حساس یا خفیہ معلومات عوامی یا غیر منظور شدہ اے آئی پلیٹ فارمز پر فراہم نہ کی جائیں۔
نیشنل سرٹ نے اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اہم نتائج کو براہ راست استعمال کرنے کے بجائے انسانی ماہرین سے لازمی جائزہ لینے پر زور دیا ہے، جبکہ ڈیٹا لاس پریوینشن (DLP) اور مؤثر مانیٹرنگ کنٹرولز نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق اے آئی سے متعلق کسی بھی سیکیورٹی واقعے کی صورت میں فوری طور پر خطرے کو محدود کرنے، متعلقہ شواہد محفوظ کرنے اور واقعے کی رپورٹنگ ضروری ہے۔ اداروں کو خصوصاً اے آئی سپلائی چین حملوں سمیت ایسے واقعات کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔



