بدین کی زرعی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے،دھان کے نرخ میں اچانک کمی تشویشناک ہے،سید علی مردان شاہ گیلانی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)کسان بورڈ سندھ کے جنرل سیکرٹری انجینئر سید علی مردان شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ بدین کی زرعی معیشت کو منظم انداز میں تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، دھان کی فصل تیار ہوتے ہی اچانک اس کے نرخ کم کر دیے گئے ہیں، جس سے ہزاروں کاشتکار شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں انہوں نے کہا کہ دھان کی کاشت سے لے کر فصل کی تیاری تک بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، ڈیزل، ٹریکٹر اور مزدوری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ فصل تیار ہونے کے بعد مناسب قیمت نہ ملنے سے کاشتکاروں کے لیے اپنی پیداواری لاگت پوری کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے انجینئر سید علی مردان شاہ گیلانی نے کہا کہ کاشتکاروں کو مناسب معاوضہ نہ ملنے سے نہ صرف کسان متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات پورے زرعی شعبے اور بدین کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس مؤثر زرعی پالیسی کا فقدان ہے اور کسان دوست پالیسی تشکیل دینے پر بھی مناسب توجہ نہیں دی جا رہی انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے زرعی تحقیقی ادارے بھی جمود کا شکار ہیں، جس کے باعث جدید تحقیق، بہتر بیج اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی

کسان بورڈ سندھ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دھان کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے دھان کی کم از کم قیمت 3 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے، تاکہ کاشتکار اپنی پیداواری لاگت پوری کر سکیں اور سندھ کی زرعی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button