حکومت کا بڑا فیصلہ، 460 ارب روپے سالانہ بچت کا ہدف

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور کاروبار دوست بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، حکومت کاروباری برادری کو سہولت دینے اور غیر ضروری ضابطہ کاری ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) میں اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اسی طرز کی اصلاحات لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ملک بھر کے تمام ریگولیٹری تقاضوں اور قواعد و ضوابط کو یکجا کرنے کے لیے جامع ریگولیٹری رجسٹری قائم کرنے کا حکم بھی دیا۔
وزیراعظم نے آسان کاروبار ایکٹ ملک بھر میں نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبوں کے ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا ہوگی اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آئیں گی۔
انہوں نے اصلاحات کے عملی اثرات جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے کی ہدایت بھی کی تاکہ ریگولیٹری اقدامات کی افادیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جاسکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی نے 7 ملٹی سیکٹرز میں 557 اصلاحات کی منظوری دی ہے، جن سے سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹرز میں 8,717 درخواستوں پر کارروائی شروع ہوئی، جن میں سے 71 فیصد مکمل کی جاچکی ہیں، جبکہ اسلام آباد بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر نے 4,612 نئے کاروباروں کو سہولیات فراہم کی ہیں۔
وزیراعظم نے SIFC کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ رابطہ مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے SIFC اور چیف سیکریٹری پنجاب کو مارچ 2027 تک eBiz پنجاب اور BFC اسلام آباد کے انضمام کا عمل مکمل کرنے کا حکم بھی دیا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔



