دہشتگرد جہاں سے بھی آئے،دہشتگرد ہی ہے،کوئی درجہ بندی نہیں،مریم نواز

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ دہشتگرد جہاں سے بھی آئے، دہشتگرد ہی ہوتا ہے، اس کی کوئی درجہ بندی نہیں کی جاسکتی، جبکہ ملک کی ترقی اور داخلی سلامتی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، بہتر گورننس اور مضبوط ادارے ضروری ہیں۔
لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے سرکاری افسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری اور لگن سے اپنے فرائض انجام دیں اور پاکستان کی ترقی و عوام کی خدمت کے لیے اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ میں بھرپور جواب دیا جبکہ مسلح افواج دہشتگردی کا بھی مقابلہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں پاکستان کا ایک نیا تشخص اجاگر ہورہا ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب تک اندرونی نظام درست نہیں ہوگا، داخلی سکیورٹی کو خطرہ برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم پاکستانی ہیں اور پالیسی کا تسلسل نہ ہو تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ان کے بقول گورننس، کارکردگی اور اداروں میں بہتری کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ خیبرپختونخوا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دہشتگردوں نے صوبے کا حسن متاثر کیا ہے، جبکہ پنجاب میں کچے کے علاقوں میں ریاست کی عمل داری بحال کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے۔

افغانستان کے حوالے سے مریم نواز نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، تاہم اگر کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں سکیورٹی اور انتظامی صورتحال مختلف ہے۔ پنجاب میں سکیورٹی اداروں کو مضبوط کیا گیا ہے اور ان کی نگرانی کی جارہی ہے۔ مریم نواز نے بتایا کہ وہ آئی جیز کے ساتھ باقاعدگی سے اجلاس کرتی ہیں اور ان کے لیے کوئی علاقہ نو گو ایریا نہیں ہے۔وزیراعلیٰ نے قیادت میں بروقت فیصلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر قیادت فیصلہ کرنے سے خوفزدہ ہو تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے پنجاب میں مافیا اور جرائم کے اثر و رسوخ کے خاتمے کی بات بھی کی۔مریم نواز نے پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستحق خاندانوں کی ضروریات جاننے کے لیے حکومت نے اپنا ڈیٹا تیار کیا ہے، تاکہ حکومتی معاونت درست افراد تک پہنچائی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 100 سے زائد منصوبے شروع کیے گئے ہیں، تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار گھر تعمیر ہوچکے ہیں جبکہ مزید ایک لاکھ گھر زیر تعمیر ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button