اہلیہ کے انتقال کے دو روز بعد سابق وزیراعظم مہاتیر محمد ہسپتال داخل

کوالالمپور (ویب ڈیسک) ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو اہلیہ سیتی حسماہ محمد علی کے انتقال کے دو روز بعد ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

مہاتیر محمد کے معاون صوفی یوسف کے مطابق 101 سالہ سابق وزیراعظم کو منگل کی شب کوالالمپور کے نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں طبی نگرانی کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ تاہم ہسپتال داخل کیے جانے کی مخصوص وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی اور باضابطہ طبی تشخیص کا انتظار ہے۔

رائٹرز کے مطابق مہاتیر محمد ماضی میں دل کے مسائل کا سامنا کرچکے ہیں اور ان کی بائی پاس سرجری بھی ہوچکی ہے۔ حالیہ برسوں میں انہیں متعدد مرتبہ ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ رواں سال جنوری میں گرنے کے باعث کولہے میں فریکچر کے بعد بھی انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

مہاتیر محمد نے پہلی مرتبہ 1981 میں ملائیشیا کی وزارت عظمیٰ سنبھالی اور 2003 تک اس منصب پر فائز رہے۔ 2018 میں وہ سیاسی میدان میں دوبارہ سرگرم ہوئے اور اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف انتخاب لڑا۔ نجیب رزاق کا نام اربوں ڈالر کے 1MDB مالی اسکینڈل سے منسلک رہا ہے۔

2018 میں دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین سربراہ حکومت بنے، تاہم ان کی دوسری وزارت عظمیٰ دو سال سے بھی کم عرصہ جاری رہی۔ 2020 میں سیاسی اتحاد میں اختلافات کے بعد ان کی حکومت ختم ہوگئی۔

دوسری جانب مہاتیر محمد کی اہلیہ سیتی حسماہ محمد علی پیر کو 100 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور صحت عامہ کے شعبے میں بھی سرگرم رہیں۔ مہاتیر محمد اور سیتی حسماہ کی شادی کو 70 برس مکمل ہوئے تھے۔

اہلیہ کی آخری رسومات کے موقع پر مہاتیر محمد جذباتی دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وہ ملائیشیا کے سابق بادشاہ سے گفتگو کے دوران آبدیدہ نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ان کی اہلیہ اسی روز انتقال کرجائیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button