ٹرمپ کا چین کیساتھ اے آئی ریگولیشن پر تعاون سے انکار
اے آئی کے خطرات پر تشویش بڑھ گئی، ٹرمپ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے اہم ملاقات آج ہوگی

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی نگرانی اور ضوابط طے کرنے کے معاملے پر مشترکہ طور پر کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا چین سمیت دیگر ممالک پر اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت چین اور دیگر ممالک سے آگے ہے اور وہ اس برتری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ اے آئی کے شعبے میں تعاون امریکی کمپنیوں کے لیے اپنے چینی حریفوں سے بہتر مصنوعات تیار کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکا کے دورے کے دوران انہوں نے شی جن پنگ سے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بات چیت کی تھی۔ ان کے مطابق امریکا پہلے ہی چینی حکومت کے ساتھ متعدد شعبوں میں تعاون کررہا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی جانب سے ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں ان کے اے آئی ایجنٹس نے صارفین کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کی، جس کے بعد محققین اور قانون سازوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ٹرمپ بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں اے آئی ٹیکنالوجی میں جدت اور نگرانی کے درمیان توازن پر بات متوقع ہے۔
ملاقات میں اینتھروپک کے ڈاریو اموڈی، میٹا کے مارک زکربرگ، گوگل کے سندر پچائی، اینویڈیا کے جینسن ہوانگ، پالانٹیر کے الیکس کارپ اور اوپن اے آئی کے گریگ بروک مین سمیت ٹیکنالوجی شعبے کی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی کہا ہے کہ اے آئی پر فوری طور پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بجائے جدت کو جاری رکھتے ہوئے مناسب توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ضرورت سے زیادہ ضابطہ سازی امریکا کو چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔



