پی ٹی آئی کے مطالبات جائز ہیں، ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ کے سوا راستہ نہیں، حافظ نعیم

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مطالبات جائز ہیں، حکومت کو عوام کو پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینا چاہیے، بصورت دیگر لانگ مارچ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سیاسی کشمکش کے باعث عوام کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، مہنگائی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں کمی عوام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ حکومت عالمی سطح پر پٹرول مہنگا ہونے کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیتی ہے، تاہم جماعت اسلامی کے احتجاج کے باعث حکومت پٹرول کی قیمتوں پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئی۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کے باوجود جماعت اسلامی نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا اور ملک بھر میں پٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ان کے مطابق عوام کو ملنے والا معمولی ریلیف بھی احتجاج کا نتیجہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تو پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے معاملے پر دوٹوک بات ہوگی، جس مقام تک پہنچ چکے ہیں وہاں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
انہوں نے پٹرولیم لیوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول پر عائد لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں پٹرولیم لیوی عائد کرنا لازمی شرط نہیں، حکومت متبادل اقدامات کے ذریعے مالی اہداف پورے کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 152 ارب روپے کی بچت کا ہدف دیا گیا تھا، جسے پٹرول کی کھپت میں کمی اور ترقیاتی پروگرام کے اخراجات میں کٹوتی کے ذریعے پورا کیا جاسکتا تھا، لیکن اس کے بجائے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پٹرول پر سبسڈی کے باعث تقریباً 140 ارب روپے کی بچت ہوئی، تاہم اپریل میں یہ سبسڈی ختم کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی دہائیوں سے گورننس اور کارکردگی کے مسائل موجود ہیں، جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہوچکی ہے لیکن پاکستان میں بنیادی کمپیوٹر تعلیم بھی ہر شہری کی دسترس میں نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومتوں کی جانب سے بار بار آئی ایم ایف پروگرامز سے رجوع کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض شرائط بظاہر واضح ہوتی ہیں، تاہم ان کے اثرات ملکی معاشی خودمختاری پر پڑتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے گورنر راج کے حوالے سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نفاذ حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔



