عدالتی نوٹس کے بعد نظربند شخص کی گرفتاری، لاہور ہائیکورٹ کا ڈی آئی جی آپریشنز کو انکوائری کا حکم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد نظربند شخص کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے کے معاملے پر پولیس کی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو گرفتاری کے تمام حالات کی ذاتی طور پر انکوائری کا حکم دے دیا۔

جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے شہری بہروز خان کی درخواست پر تحریری عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو ہدایت کی کہ وہ نظربند امیر خان کی مبینہ گرفتاری کے تمام حالات و واقعات کا خود جائزہ لیں۔

عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز کو 30 ستمبر کو جامع اور تصدیق شدہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں امیر خان کی گرفتاری کی وجوہات، وقت، طریقہ کار اور اس سے متعلق تمام واقعات کی تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تحریری حکم میں عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد نظربند شخص کو ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ عدالت کے مطابق پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ نے عدالتی اعتماد کو متاثر کیا، جبکہ واقعات کی ترتیب بادی النظر میں یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ عدالتی کارروائی کو روکنے یا ناکام بنانے کی دانستہ کوشش کی گئی۔

عدالت نے مزید کہا کہ نظربند شخص کی گرفتاری کا وقت اور طریقہ کار سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر پولیس کا طرزِ عمل الزامات کے مطابق ثابت ہوا تو یہ اختیارات کے سنگین غلط استعمال کے زمرے میں آسکتا ہے۔

پولیس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امیر خان کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل لاک اپ بھیجا گیا، تاہم عدالت نے ایس ایچ او گجرپورہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے گرفتاری کے تمام حالات کی اعلیٰ سطح پر جانچ کو ضروری قرار دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے لاء افسر کو بھی عدالتی حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔

کیس کی مزید سماعت 30 ستمبر کو ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button