رجسٹریشن سے قبل جاری شوکاز نوٹس غیر قانونی قرار، ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے قبل جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کو غیر قانونی قرار دے دیا اور ٹیکس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے محکمہ ان لینڈ ریونیو کا 8 سال پرانا ریفرنس خارج کردیا۔

جسٹس محمد اجمل خان زاہد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹریشن کے بعد کی جانے والی کارروائی پہلے سے شروع کی گئی غیر قانونی کارروائی کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق متعلقہ ٹیکس دہندہ کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن 27 ستمبر 2016 کو ہوئی، جبکہ محکمہ ان لینڈ ریونیو نے اس سے قبل 23 ستمبر 2016 کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس ٹربیونل کی جانب سے طے کیے گئے بنیادی قانونی نکتے کو محکمہ نے چیلنج نہیں کیا، اس لیے کسی غیر چیلنج شدہ قانونی نکتے کو ریفرنس کے ذریعے بالواسطہ طور پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ غیر قانونی بنیاد پر شروع ہونے والی کارروائی محض بعد کی کارروائی کے ذریعے برقرار نہیں رہ سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ کے مطابق محکمہ ان لینڈ ریونیو ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی غلطی ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا ٹربیونل کا 19 دسمبر 2017 کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

عدالت نے بینک کریڈٹ، اے او پی اور ٹیکس فراڈ سے متعلق محکمہ کے دیگر سوالات پر فیصلہ دینا بھی غیر ضروری قرار دیا، کیونکہ بنیادی قانونی نکتے کے باعث ان سوالات کا مقدمے کے حتمی نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ریفرنس میں ایسے سوال کا فیصلہ نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے سے مقدمے کے حتمی فیصلے میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔

مزید خبریں

Back to top button