آر ایل این جی پر انحصار کم اور بجلی سستی کی جائے:توانائی فورم

تھرپارکر (جانو ڈاٹ پی کے) سکار فاؤنڈیشن سندھ اور گرو گرین نیٹ ورک نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رعایتی قرضوں کی خصوصی پالیسی متعارف کرانے کا مطالبہ کردیا، جبکہ درآمدی گیس اور ایندھن پر انحصار کم کرکے صاف اور مقامی توانائی کی جانب منتقلی پر زور دیا گیا ہے۔
مٹھی میں سکار فاؤنڈیشن سندھ نے انڈس کنسورشیم کے تعاون سے ”درآمدی ایندھن سے آزادی: توانائی کا تحفظ اور صاف ستھرا سفر“ کے عنوان سے عوامی فورم کا انعقاد کیا، جس میں اسمبلی ارکان، توانائی و تعلیمی ماہرین، صحافیوں، سماجی تنظیموں کے نمائندوں، ماحولیاتی کارکنوں اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے سکار فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد چنا، تیرتھ جہانگی اور ندیم روشن شاہ سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ درآمدی گیس اور ایندھن پر انحصار کے باعث ملک کو توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی درآمدی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہورہا ہے، اس لیے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کیلئے مؤثر اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
فورم میں اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کیلئے خصوصی رعایتی قرضوں کی پالیسی متعارف کرائی جائے، تاکہ کمرشل بینک آسان شرائط پر شہریوں کو الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کیلئے قرض فراہم کرسکیں۔
شرکاء نے موجودہ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو برقی نظام پر منتقل کرنے کے ساتھ یونیورسٹی طلبہ، خصوصاً طالبات، کیلئے بھی الیکٹرک گاڑیوں تک رسائی آسان بنانے کی تجاویز پیش کیں۔
فورم میں قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک وسیع کرنے، شمسی اور ہوا سے صاف توانائی کی پیداوار بڑھانے، بیٹری اسٹوریج کے نظام کو بہتر بنانے اور بجلی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درآمدی آر ایل این جی پر انحصار کم کیا جائے اور بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے میں کمی کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ بجلی عام شہریوں، تاجروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے زیادہ سستی اور قابلِ رسائی بن سکے۔



