2026کا سپر ایل نینو!6ماہ میں ساڑھے4لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے)2026 کے ممکنہ شدید سپر ایل نینو نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجادی، موسمیاتی تبدیلی کے باعث آئندہ تقریباً چھ ماہ کے دوران اضافی گرمی سے 4 لاکھ 51 ہزار کے قریب اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی نئی تحقیق کے مطابق ایل نینو کے باعث عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز، خشک سالی اور بارشوں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ایل نینو بحرالکاہل کے مرکزی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کا موسمیاتی رجحان ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق موجودہ ایل نینو غیر معمولی طور پر شدید ہوسکتا ہے اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق 2026 کے اختتام پر اپنی شدت کے عروج تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اضافی گرمی سے تقریباً 451,000 اموات ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا میں تقریباً 19,300 اضافی اموات کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی بالخصوص بزرگ افراد، دل اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد اور طویل وقت تک کھلے ماحول میں کام کرنے والوں کے لیے صحت کے سنگین خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعداد ایک ماڈلنگ پر مبنی تخمینہ ہے، یقینی اموات کی پیش گوئی نہیں۔ ہیٹ ایکشن پلان، بروقت موسمی وارننگ، ٹھنڈا رکھنے کے مناسب انتظامات اور طبی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات ممکنہ اموات میں کمی لا سکتے ہیں۔
ایل نینو کے ممکنہ اثرات صرف شدید گرمی تک محدود نہیں، بلکہ خشک سالی، جنگلات میں آگ اور بارشوں کے معمول میں تبدیلی بھی مختلف خطوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرسکتی ہے۔



