خیبرپختونخوا میں پولیس کا نیا نظام، آئی جی کی تعیناتی کا اختیار صوبائی حکومت کو دینے کی منظوری

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا حکومت نے انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 میں نئی تجاویز شامل کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا 59واں اجلاس ہوا، جس میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ پولیس حکام سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی تھی۔
مجوزہ قانون کے تحت وفاقی حکومت آئی جی پولیس کے لیے تین افسران کے نام خیبرپختونخوا حکومت کو بھجوائے گی، جن میں سے ایک افسر کا انتخاب صوبائی حکومت کرے گی۔ موجودہ طریقہ کار میں صوبائی حکومت تین نام وفاق کو بھیجتی ہے، یوں مجوزہ قانون میں تقرری کے عمل کی سمت تبدیل ہوجائے گی۔
مجوزہ پولیس ایکٹ میں ڈی ایس پی کی سطح پر 25 فیصد براہ راست بھرتی کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتیوں میں براہ راست اختیار دینے کی تجویز ہے۔
کابینہ نے پولیس کی مجموعی نگرانی اور پالیسی سازی کا اختیار بھی صوبائی حکومت کے پاس رکھنے کی تجویز منظور کی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت وزیراعلیٰ پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ ہوں گے اور پولیس کا سالانہ صوبائی منصوبہ بھی اسی بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
صوبائی کابینہ کے مطابق مجوزہ قانون میں پولیس کے انتظامی اور پالیسی معاملات میں صوبائی حکومت کے کردار کو مزید واضح کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی تجاویز خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کو مزید مؤثر بنانے کے لیے شامل کی گئی ہیں۔



