حوثیوں کی امریکا کو سخت دھمکی، سعودی حمایت میں مداخلت پر امریکی مفادات نشانے پر

انقرہ (جانو ڈاٹ پی کے) یمن کے حوثی جنگجوؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے سعودی عرب کی حمایت میں یمن کی جنگ میں فوجی مداخلت کی تو خطے میں موجود امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

حوثی فوجی عہدیدار عابد محمد الثور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے بحری بیڑے کے ذریعے یمن میں فوجی مداخلت کی یا آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تو یہ حوثیوں کے لیے ’’سرخ لکیر‘‘ ہوگی اور وہ امریکا کے خلاف لڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے سعودی عرب کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فضائی حملے یا فضائی معاونت فراہم کی تو خطے میں موجود تمام امریکی مفادات کو اہداف تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری مکمل کرلی تھی، تاہم آخری وقت میں حملے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد امریکی فوج کو حوثیوں کے خلاف حملے کی تیاری کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی ولی عہد نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی تھی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں پر میزائل لاد دیے گئے تھے اور وہ کارروائی کے لیے تیار تھے، تاہم صدر ٹرمپ نے آخری وقت میں پینٹاگون کو فضائی حملے سے روک دیا۔

امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے اس رپورٹ کی تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق حملہ مؤخر کرنے کی ایک وجہ 2025 میں قطر کی ثالثی سے حوثیوں اور امریکا کے درمیان ہونے والا جنگ بندی معاہدہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ امریکا کو اس معاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کی جنگ میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، بصورت دیگر جنگ بندی معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button