غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حالات کشیدہ، دو ریاستی حل ختم نہیں ہونے دیں گے: گوتریس

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا جنرل ڈیبیٹ شروع ہوگیا، جس میں عالمی رہنما مختلف بین الاقوامی بحرانوں اور امن و سلامتی کے مسائل پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران کئی جنگیں شروع ہوئیں جن کے تباہ کن اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے۔ ان کے مطابق یہ جنگیں ہولناک بربریت کے ساتھ جاری رہیں، شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور بعض مقامات پر بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ محض فوجی طاقت سکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود حالات کشیدہ ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال فلسطین کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے دو ریاستی حل کو ختم نہیں ہونے دینا چاہیے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نسلی امتیاز کے خطرے میں اضافے کی بھی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب سوڈان میں اقتدار کی جنگ جاری ہے اور یہ تنازع شہریوں کے خلاف جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی وفد کے دیگر ارکان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال بھی کیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنرل اسمبلی کا جنرل ڈیبیٹ 22 سے 26 ستمبر اور پھر 28 ستمبر کو جاری رہے گا، جس میں سربراہانِ مملکت و حکومت اور اعلیٰ سطحی نمائندے عالمی مسائل پر اپنے مؤقف پیش کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button