عظمیٰ بخاری کی توہین عدالت درخواست پر فیصلہ محفوظ، حاضری معافی کی درخواست بھی مسترد

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) ضلع کچہری میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی مبینہ جعلی ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید سمیت دیگر کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔
عظمیٰ بخاری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت کے دوران میاں علی اشفاق نے عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے وکیل کے خلاف کارروائی کی استدعا کی۔
میاں علی اشفاق نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عظمیٰ بخاری جرح کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہوئی تھیں، جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود مدعیہ کی عدم حاضری کی صورت میں قانون کے تحت وارنٹ جاری کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کی درخواست عدالتی کارروائی میں تاخیر کی کوشش ہے۔
عظمیٰ بخاری کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں کسی کے دباؤ میں کام نہیں کرتیں اور گزشتہ عدالتی فیصلے میں بھی اس حوالے سے وضاحت موجود ہے۔ انہوں نے کمرہ عدالت میں سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کی موجودگی اور عدالتی کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں پر بھی اعتراضات اٹھائے۔
دوسری جانب میاں علی اشفاق نے کہا کہ وہ توہین عدالت کی درخواست پر مزید دلائل دیں گے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی کارروائی متعدد مرتبہ مدعیہ کی وجہ سے ملتوی ہوئی اور درخواست کا مقصد کارروائی کو مزید تاخیر کا شکار کرنا ہے۔
سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست زیر التوا ہے اور پیر کو اس پر کارروائی شروع ہونا ہے، لہٰذا اس درخواست کے فیصلے کے بعد مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔
عدالت نے عظمیٰ بخاری کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کردی جبکہ فلک جاوید کے وکیل کی جانب سے عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا پر بھی سماعت کی گئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں موجود ہر شخص کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، وکیل عدالت کا افسر ہوتا ہے اور دونوں فریق عدالت کے لیے یکساں ہیں۔ انہوں نے وکلا کو ہدایت کی کہ قانونی دلائل تک محدود رہتے ہوئے مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے اور غیر ضروری رکاوٹوں کے بجائے کیس کا فیصلہ کیا جائے۔
بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے عظمیٰ بخاری کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔



