سعودی اپیل پر چین کا ایران سے رابطہ،حوثیوں کے حملے روکنے کا مطالبہ کردیا

بیجنگ (جانو ڈاٹ پی کے) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پھیلاؤ کے خدشات کے درمیان چین نے سعودی عرب کی درخواست پر ایران سے حوثیوں کے حملے روکنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔
رائٹرز نے معاملے سے باخبر تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے اطراف تیزی سے پیش قدمی کے بعد سعودی عرب نے چین سے مدد طلب کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ان پیش رفتوں سے سعودی تیل کی برآمدات اور سمندری تجارت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق چین نے ایران سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں مدد کرے، خصوصاً ان اہم توانائی اور تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جن پر چین سمیت عالمی معیشت کا انحصار ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور بحیرۂ احمر میں محفوظ جہاز رانی کی بحالی پر زور دیا ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ کا نجی پیغام اس کے عوامی بیانات سے زیادہ واضح تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ چین کا پیغام تہران تک کس ذریعے سے پہنچایا گیا۔ تاہم ایرانی ردعمل کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کا انحصار ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے پر ہے۔
دوسری جانب رائٹرز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ علاقائی کشیدگی مزید یمن اور بحیرۂ احمر تک پھیلے اور علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔
چینی وزارت خارجہ نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام، شہریوں کی زندگیوں کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے اور پیچیدہ صورتحال کو مزید بگاڑنے والے اقدامات کے خاتمے پر زور دیا۔
رائٹرز کے مطابق ایران ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے چین کو اپنا بڑا تجارتی شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ چین ایرانی تیل کا اہم خریدار بھی ہے۔ ایسے میں حوثیوں کی پیش قدمی اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے خطرات چین کے لیے بھی توانائی اور تجارتی راستوں کے حوالے سے اہم تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ اور سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے رائٹرز کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔



