افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے، عاصم افتخار

واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر واضح کر دیا ہے کہ افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردانہ خطرات کے خلاف وہ ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا، اور یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوگی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے یہ مؤقف سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پیش کیا، جس میں طالبان کے کابل پر قبضے کے پانچ سال بعد افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس دہشت گردانہ یلغار کے سامنے خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ ہم ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق جواب دیں گے، ہم ہر اس شخص کے خلاف اپنا دفاع کریں گے جو ہمارے شہریوں اور ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زیادہ پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، کابل افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور اس کا مجید بریگیڈ، داعش خراسان، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ اور ان کے اتحادی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کو بیرونی عناصرمزید پیچیدہ بنا رہے ہیں جو افغانستان کے اندر موجود اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ اب بھی موجود ہیں، خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں، انہیں حکمرانی کے عمل سے باہر رکھنا، معاشی دباؤ، بنیادی خدمات فراہم کرنے کی کم ہوتی صلاحیت اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی واپسی و ہجرت افغانستان کے طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی مخالفت کرنے والے مسلح گروہ بھی اب تک سرگرم ہیں، ایسے گروہوں نے یکم مئی سے جولائی کے اختتام تک افغانستان کے 21 صوبوں میں 88 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سے ادارہ جاتی طور پر انکار اور افغان طالبان کے سیاسی نظام کی آمرانہ نوعیت کو سنگین ترین خدشات میں شمار کیا گیا ہے، یہ پالیسیاں افغان معاشرے کو متاثر کر رہی ہیں اور افغانستان کی عالمی نظام میں دوبارہ شمولیت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

اس پس منظر میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد نے رابطے، انسانی امداد اور علاقائی تعاون کے ذریعے افغانستان کے استحکام کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی بعض پالیسیوں پر تحفظات کے باوجود پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کی اور افغانستان تک انسانی امداد کی بلاتعطل رسائی کی اجازت دی جیسا کہ سیکریٹری جنرل کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے، رپورٹنگ کی مدت کے دوران پاکستان کے راستے کم از کم 687 انسانی امدادی سامان سے لدے ٹرک افغانستان میں داخل ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پانچ سال قبل اس اہم موڑ پر عالمی برادری کو جو امیدیں اور توقعات تھیں، وہ پوری نہیں ہوئیں اور رفتہ رفتہ مایوسی اور ناامیدی میں تبدیل ہوگئیں، افغانستان کو درپیش چیلنجز کی شدت واضح ہے، اور سیکریٹری جنرل کی رپورٹ اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ طالبان کی جانب سے ظاہر کی جانے والی نسبتاً استحکام کی صورتِ حال ایسے بڑھتے ہوئے خطرات کو چھپا رہی ہے جو قلیل اور طویل مدت میں ملک کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے مسائل کا بنیادی مرکز رہی ہے، اس کی جڑیں طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گہرے تعلق میں ہیں، افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے ہتھیاروں اور غیر قانونی اسلحے کی اسمگلنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔

امریکا

اس اجلاس کے دوران امریکا نے بھی افغان طالبان کے حوالے سے اسی طرح تنقیدی مؤقف اختیار کیا، امریکی سفیر مائیک والٹز نے امریکی شہریوں کی حراست، دہشت گردی اور خواتین و لڑکیوں پر عائد پابندیوں کو اپنی گفتگو کا مرکز بنایا۔

والٹز نے کہا کہ امریکا طالبان کو امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا،خ کسی صورت نہیں، طالبان امریکی شہریوں کو سودے بازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی شہریوں کی طالبان کی جانب سے حراست کی مذمت کرے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرے۔

روس کا مؤقف

دوسری جانب روس نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کے معاملے میں دباؤ ڈالنے کے بجائے رابطہ کاری اور بات چیت ضروری ہے۔

روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ حقیقی اور عملی نوعیت کے رابطے کا کوئی متبادل نہیں۔

پانچ سال قبل غیر ملکی افواج کے انخلا کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تباہ ہونے یا ایک بلیک ہول بن جانے کی پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔

نیبنزیا نے افغانستان میں نسبتاً استحکام کی وجہ طالبان کی جانب سے ترقی، علاقائی تعاون اور ایک خود انحصار ریاست کی تعمیر پر توجہ کو قرار دیا۔

انہوں نے افغان حکام کے ساتھ اعتماد کی بنیاد پر بات چیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ مکالمہ "دباؤ اور بلیک میلنگ کی زبان سے مکمل طور پر پاک” ہونا چاہیے۔

چین کا مؤقف

چین نے بھی خواتین کے ساتھ برتاؤ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ رابطے جاری رکھنے کی حمایت کی۔

چین کے نائب سفیر سن لی نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ رابطے اور بات چیت کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نتائج کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں، نیک نیتی کا مظاہرہ کریں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں اور سماجی استحکام اور ترقی کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کے باعث افغانستان کے لیے مزید بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

چین نے افغان حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ تمام افغان شہریوں، بشمول خواتین، کے بنیادی حقوق اور مفادات کی ضمانت دیں۔

چین نے بظاہر امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے ایک متعلقہ ملک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے لیے اپنی تاریخی ذمہ داریاں پوری کرے، افغانستان کے لیے امداد دوبارہ شروع کرے، یک طرفہ پابندیاں ختم کرے، افغان مرکزی بینک کے بیرونِ ملک موجود اثاثے واپس کرے اور ملک کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے وسائل فراہم کرے۔

مزید خبریں

Back to top button