ونگو میں منشیات فروشی، سی آئی اے پولیس اور ہالا برادری میں تصادم،اہلکاروں پر مبینہ تشدد،دھرنا اور روڈ بلاک

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کی تحصیل کلوئی کے شہر ونگو میں سی آئی اے پولیس کی مبینہ کارروائی کے دوران ہالا برادری کے افراد اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق سی آئی اے پولیس کی ٹیم نے ایک کیبن پر چھاپہ مار کر ہالا برادری کے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس پر برادری کے افراد لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔
رپورٹس کے مطابق کشیدگی کے دوران سی آئی اے انچارج میانداد چوپان اور اہلکاروں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کچھ مقامی اہلکار وہاں سے فرار ہوگئے۔ اس دوران سی آئی اے انچارج اور اہلکاروں کو دکان کے اندر بند کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ کلوئی پولیس کی موجودگی کے باوجود صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی نہ کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
واقعے کے بعد ہالا برادری کے افراد نے تھرکول مین روڈ پر دھرنا دے کر ٹائر نذر آتش کیے، جس کے باعث تقریباً تین گھنٹے تک ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی۔ ذرائع کے مطابق ارباب لطف اللہ کے قریبی ساتھی ولی آمر موقع پر پہنچے اور دھرنا ختم کروایا۔ مذاکرات کے دوران فریقین کو ایک ساتھ بٹھا کر چائے پلائی گئی اور گلے ملوا کر معاملہ ختم کروا دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ونگو موڑ منشیات کی فروخت کا مرکز بن گیا ہے، جہاں گھنے درختوں میں منشیات سے بھرے ٹریلروں کی آمدورفت اور سامان اتارنے کی اطلاعات ہیں۔ ہالا برادری کے نیاز ہالو نے الزام عائد کیا کہ کیبن والے صرف ایک پاؤ منشیات فروخت کرتے ہیں، جبکہ جہاں پولیس کی مبینہ سرپرستی میں بڑے پیمانے پر منشیات اتاری جاتی ہیں، وہاں کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
نیاز ہالو نے مزید الزام عائد کیا کہ کلوئی پولیس منشیات کے کاروبار کی سرپرستی کر رہی ہے اور اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ان کے مطابق، جس نوجوان کو سی آئی اے پولیس گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ پہلے بھی منشیات کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوچکا ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملے کا ردعمل کسی کولہی یا بھیل برادری کے فرد کی جانب سے سامنے آتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ ان کے مطابق قانون کی بالادستی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے اور منشیات کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کے امتیازی سلوک کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
واقعے کے حوالے سے پولیس کا باضابطہ موقف اور منشیات کی مبینہ فروخت کے الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آسکی۔
دوسری جانب سی آئی اے انچارج میانداد چوپان کا کہنا ہے کہ اکرم ہالو منشیات فروش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد پولیس پارٹی پر حملہ کیا گیا اور تین اہلکار زخمی ہوئے۔
اکرم ہالو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف سازش کے تحت جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ چند روز قبل پولیس نے ایک گاڑی پکڑ کر مقدمہ درج کیا اور مجھے بھی ملزم نامزد کردیا گیا۔
نیاز ہالو نے مزید کہا کہ سی آئی اے انچارج تھرپارکر میانداد چوپان کو اسلام کوٹ سے آنے والی شراب نظر نہیں آتی، جو کلوئی کے گلیوں اور اسٹاپوں تک سرعام پہنچ کر فروخت ہو رہی ہے۔ وہاں کارروائی نہیں کی جاتی، لیکن کوئی غریب ایک پیکٹ فروخت کرے تو وہ پولیس کو نظر آجاتا ہے۔



