مٹھی:عدالت میں رپورٹ جمع ہونے کے باوجود گاؤں وِیساسر دیہہ گودھیارکی سرکاری زمین پر مبینہ قبضہ جاری

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کی جانب سے تعلقہ مٹھی کے گاؤں وِیساسر، دیہہ گودھیار میں واقع سرکاری و نجی زمینوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ-1 مٹھی کی عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، تاہم دیہاتیوں کا الزام ہے کہ رپورٹ جمع ہونے کے بعد بھی مبینہ قبضہ اور کاشتکاری کا سلسلہ جاری ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر/مختیارکار (ریونیو) تعلقہ مٹھی سے حاصل کردہ ریکارڈ اور معلومات کی بنیاد پر گاؤں وِیساسر دیہہ گودھیار میں مختلف سروے نمبرز کی زمینوں کی حیثیت بیان کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیت سنگھ ولد چھین سنگھ، کاروجی ولد چھین سنگھ، بھورجی ولد چھین سنگھ اور پرتھوی ولد چھین سنگھ، تمام ذات ٹھاکر، مذکورہ زمین پر قابض اور کاشتکاری کرتے ہوئے پائے گئے۔ اس حوالے سے 4 جولائی 2025 کو عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ روڈ کے جنوب میں واقع سروے نمبر 29 پر بھی لوگوں کا مبینہ قبضہ اور کاشتکاری موجود ہے۔

مزید برآں پیمائش اور جائزے کے مطابق سروے نمبر 28، 69 اور 60 سے متصل چاروں اطراف میں تقریباً 22 ایکڑ 12 گھنٹہ سرکاری/سراسری زمین پر بھی مبینہ طور پر انہی افراد کی جانب سے قبضہ اور کاشتکاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سرکٹ کورٹ حیدرآباد کے احکامات و ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کو فریقین کو سننے کے بعد منصفانہ اور ذمہ دارانہ Speaking Order جاری کرنا ہے، جبکہ رپورٹ ایڈیشنل رجسٹرار کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران زمین کی ملکیت، قبضے اور سرکاری زمین سے متعلق ریکارڈ کی بنیاد پر مزید فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب دیہاتیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ عدالت میں جمع ہونے کے بعد مبینہ قابضین نے مزید سرکاری زمین پر قبضہ کرکے وہاں کاشتکاری شروع کردی۔ دیہاتیوں کا مزید الزام ہے کہ قدرتی جنگلات کے درخت بھی کاٹے گئے، لکڑی مارکیٹ میں فروخت کی گئی، جبکہ متعدد درختوں کو جلا کر نقصان پہنچایا گیا اور قدرتی ماحول کو تباہ کیا گیا۔ دیہاتیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ قبضوں، درختوں کی کٹائی اور سرکاری زمین کے استعمال کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button