برکس ممالک کا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر اظہارِ تشویش، فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل

نئی دلی (ویب ڈیسک) برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
برکس کے مشترکہ اعلامیے میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں غزہ میں جنگ بندی، دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
برکس ممالک نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی بھی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔ اجلاس میں 2027 میں چین کی برکس سربراہی کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔
دوسری جانب برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اماراتی میڈیا آفس کے مطابق شیخ خالد بن محمد بن زاید نے خطے میں استحکام کے لیے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔ دونوں رہنماؤں نے امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔
متحدہ عرب امارات نے یکم مارچ کو میزائل حملوں کے بعد احتجاجاً تہران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔
ادھر برکس اجلاس کے لیے بھارت میں موجود ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے بھارتی میڈیا کے ایک انٹرویو میں پاکستان پر ریاستی دہشت گردی کا الزام عائد کرنے سے دوٹوک انکار کردیا۔
انور ابراہیم نے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم وہ صرف ان حقائق پر بات کرسکتے ہیں جو ریاستی اداروں کی جانب سے فراہم کیے گئے ہوں۔ ان کے مطابق ملائیشیا کے انٹیلی جنس اداروں نے کبھی ایسی کوئی رپورٹ فراہم نہیں کی جس سے یہ ثابت ہو کہ پاکستان بھارت میں کسی ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔
ملائیشین وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران فلسطین پر اسرائیلی قبضے اور نہتے فلسطینیوں پر جاری بمباری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔



