نئے صوبوں کا فیصلہ سیاسی مفاد نہیں، قومی مشاورت سے ہونا چاہیے، چودھری شجاعت

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) صدر مسلم لیگ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے حل کیا جانا چاہیے۔
چودھری شجاعت حسین سے مسلم لیگ سندھ کے صدر آصف جمال اور جنرل سیکرٹری آفاق خٹک نے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور انتظامی امور سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سندھ کی ترقی اور عوامی محرومیوں کے خاتمے میں مسلم لیگ کا تاریخی کردار رہا ہے۔ قومی اتفاقِ رائے اور باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے، جبکہ عوام کو بہتر طرز حکمرانی، بنیادی سہولیات اور فوری انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ سیاسی مفادات یا وقتی نعروں کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو کس انتظامی نظام کے ذریعے زیادہ سہولت اور بہتر حکمرانی فراہم کی جا سکتی ہے۔
صدر مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ مؤثر، بااختیار اور مضبوط انتظامی یونٹس بھی عوامی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کر کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکتے ہیں۔
چودھری شجاعت حسین نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صف بندی کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور قومی معاملات کو سیاسی انا سے بالاتر ہو کر دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط صوبے، بااختیار ادارے اور مطمئن عوام ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔



