سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر ڈیڈلاک برقرار، خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس ڈھائی گھنٹے کی بحث کے بعد بے نتیجہ ختم ہوگیا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بل کی مختلف شقوں پر اختلافات برقرار رہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان بل کی متعدد شقوں پر اتفاق نہ ہوسکا۔ حکومتی ارکان نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کی بعض سفارشات کو ترمیمی بل میں شامل کرلیا گیا ہے، تاہم اپوزیشن ارکان نے حکومتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوئی تجویز قبول نہیں کی گئی۔
اپوزیشن ارکان کا مؤقف تھا کہ بل کی تیاری کے مرحلے میں ان سے تجاویز نہیں لی گئیں، جبکہ اسمبلی میں حکومتی ترمیمی بل پیش کیے جانے کے بعد ان سے سفارشات طلب کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 کو پیر یا منگل کو منظوری کے لیے سندھ اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ایم کیو ایم نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی تجاویز بل میں شامل نہ کی گئیں تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کسی صورت ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کے حق میں نہیں۔



