پوتن کی بھارت میں برکس اجلاس میں شرکت، عالمی نظام اور کثیرالجہتی تعاون پر غور ہوگا

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے صدر ولادیمیر پوتن بھارت کے ورکنگ دورے کے دوسرے روز برکس سربراہی اجلاس کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، جہاں عالمی و علاقائی امور، عالمی نظام حکمرانی میں اصلاحات اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صدر ولادیمیر پوتن برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ چکے ہیں۔ اجلاس کے دوسرے روز کا زیادہ تر وقت برکس کے ایجنڈے کے لیے مختص ہوگا، جبکہ کثیرالجہتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز برکس بزنس فورم کے مکمل اجلاس سے ہوگا، جس میں روسی صدر بھی شریک ہوں گے۔
برکس ممالک کے رہنما بند کمرہ اجلاس میں ملاقات کریں گے، جس میں ان رکن ممالک کے سربراہان شریک ہوں گے جن کی نمائندگی اعلیٰ ترین سطح پر کی جا رہی ہے۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق اجلاس میں برکس کی 20 سالہ سرگرمیوں کے نتائج کا جائزہ لینے کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ منظور کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اعلامیے کی منظوری لازمی شرط نہیں۔ برکس رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کی عکاسی کرنے والی دستاویز کی تیاری جاری ہے، جس میں سلامتی، معیشت اور ثقافت سے متعلق امور کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
برکس سربراہی اجلاس کے دوران نئی دہلی میں برگد کا درخت لگانے کی تقریب بھی ہوگی، جسے رکن ممالک کے درمیان مضبوط باہمی روابط اور اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ تمام شریک رہنما شجرکاری میں حصہ لینے کے بعد برکس کے قیام کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی نمائش کا دورہ کریں گے۔
رہنما ’’انوویٹو انڈیا‘‘ نمائش بھی دیکھیں گے، جہاں میزبان ملک بھارت مستقبل کے حوالے سے اپنا وژن پیش کرے گا۔ اجلاس کی سرگرمیوں کا اختتام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارت منڈپم انٹرنیشنل کنونشن سینٹر، نئی دہلی میں دیے جانے والے سرکاری استقبالیے سے ہوگا۔
برکس اجلاس کی مصروفیات کے ساتھ صدر ولادیمیر پوتن کی متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ روسی صدر ہفتے کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سمیت مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق سربراہی اجلاس کے موقع پر پوتن کی دیگر رہنماؤں کے ساتھ مختصر اور غیر رسمی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جبکہ اجلاس کے ہال میں آمد و رفت کے دوران رہنماؤں کے درمیان مختصر تبادلہ خیال کا بھی امکان ہے۔



