لاہور ہائیکورٹ نے فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست مسترد کردی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور درخواست گزار کے وکیل کو متعلقہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

جسٹس شہباز رضوی نے فلک جاوید کے والد جاوید اقبال کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام کو فریق بنایا گیا تھا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے فوری بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ وکیل کے مطابق ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں فلک جاوید کے خلاف کسی مقدمے کے اندراج سے انکار کیا گیا تھا، اس لیے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید کی فیک ویڈیو کیس میں ضمانت منظور ہونے کے بعد اسی روز تھانہ ریس کورس نے 9 مئی کے مقدمے میں ان کی گرفتاری ڈال دی اور جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔ وکیل کے مطابق گرفتاری سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر کی گئی جبکہ اے ٹی سی میں پیش کیے بغیر ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرخ خان لودھی نے عدالت کو بتایا کہ فلک جاوید اس وقت اے ٹی سی کے حکم پر جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ موجودہ صورتحال میں درخواست ہائیکورٹ میں کس طرح قابلِ سماعت ہے۔ جسٹس شہباز رضوی نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ ریمانڈ کیس کا فیصلہ نہیں کررہی، اس لیے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ کو متعلقہ اے ٹی سی میں چیلنج کیا جائے۔

عدالت نے فلک جاوید کی بازیابی اور رہائی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی۔

مزید خبریں

Back to top button