فوجی کمانڈر کا نیتن یاہو کی اہلیہ پر کروڑوں روپے ہرجانے کا مقدمہ

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیل میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ اور سابق فوجی کمانڈر یائر گولان نے وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے خلاف ہتک عزت اور نقصانات کا مقدمہ دائر کردیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یائر گولان نے سارہ نیتن یاہو کے اس بیان پر قانونی کارروائی کی ہے جس میں انھوں نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے اشارہ دیا تھا کہ گولان کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اچانک حملے کا پہلے سے علم تھا۔
یائر گولان نے ہرجانے کے مقدمے میں وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے اُس بیان کا حوالہ دیا جو انھوں نے 31 اگست کو حکومت نواز چینل کو انٹرویو میں دیا تھا۔
سارہ نیتن یاہو نے انٹرویو میں یائر گولان کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار ہونے کے ناتے وہ حملے کے روز اتنی صبح تیار ہوکر جنوبی اسرائیل کیسے پہنچ گئے جبکہ وزیراعظم سمیت دیگر افراد کو اس وقت جنگ شروع ہونے کا علم نہیں تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ نے اس انٹرویو میں اُس وقت کے فوجی کمانڈر یائر گولان کے اُس بیان پر بھی سوال اُٹھایا تھا کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے خلاف لڑائی میں بھی شریک ہوئے تھے۔
سارہ نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد یائر گولان نے انھیں قانونی نوٹس بھیجا اور مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنا بیان واپس لے کر معافی مانگیں اور نووا میوزک فیسٹیول کے متاثرین کے لیے قابل ذکر رقم عطیہ کریں تاہم ان کے مطابق ایسا نہیں کیا گیا۔
یائر گولان کا مؤقف کیا ہے؟
سابق فوجی کمانڈر یائر گولان کا کہنا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کو صبح تقریباً 8 بجے یعنی حماس کا حملہ شروع ہونے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد اپنی مرضی سے جنوبی اسرائیل روانہ ہوئے تھے۔
سابق اسرائیلی فوجی ڈپٹی چیف آف اسٹاف گولان نے حملے کے دوران نووا میوزک فیسٹیول کے مقام کا رخ کیا اور وہاں پھنسے افراد کو بچانے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ ان کی اس کارروائی کو اسرائیل میں بھی سراہا گیا تھا۔
یائر گولان نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان کی ساکھ یا 7 اکتوبر کو ان کے کردار تک محدود نہیں بلکہ یہ اس سیاسی کیمپ کی جانب سے حکومت کے خلاف سول فردِ جرم بھی ہے جو ملک کی تاریخ کی بدترین ناکامی کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ نیتن یاہو خاندان 7 اکتوبر کی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے تاریخ کو دوبارہ لکھنے اور ان افراد کو غدار قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے جو حملے کے دوران لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے خطرے میں کود پڑے تھے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل میں یہ سوال مسلسل زیر بحث ہے کہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے حماس کے حملے کی تیاریوں کا بروقت اندازہ کیوں نہ لگا سکے اور حکومتی قیادت کو ممکنہ خطرے سے متعلق کیا معلومات حاصل تھیں۔



