روس کو پاکستان، بھارت کشیدگی پر تشویش، آبی تنازع مذاکرات سے حل کرنے پر زور

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے سمیت دیگر معاملات پر جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے پر زور دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے جمہوریہ کومی کے دارالحکومت سیکتیوکار سے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ماسکو کو روس کے دو دوست ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی مسئلے کے حل نہ ہونے پر تشویش ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دیگر پہلو بھی روس کے لیے باعث تشویش ہیں۔
دنیا نیوز کے نمائندے شاہد گھمن نے ماریہ زخارووا سے سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی صدارت سے متعلق سوالات کیے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے روسی ترجمان نے کہا کہ ماسکو اس نوعیت کے تنازعات کو باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو اہم سمجھتا ہے، جس میں دونوں ممالک کے مفادات کو یکساں طور پر مدنظر رکھا جائے۔
ماریہ زخارووا نے پاکستان کی جانب سے 2026ء سے 2027ء تک شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے کو بھی اہم ذمہ داری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلی مرتبہ ایس سی او کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کی صدارت کر رہا ہے، جس کا مقصد تنظیم کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینا اور عالمی سطح پر اس کی حیثیت مضبوط بنانا ہے۔
روسی ترجمان کے مطابق صدارت کے دوران ایس سی او کی بنیادی دستاویزات، بالخصوص 2035ء تک کی ترقیاتی حکمت عملی پر عمل درآمد کے تسلسل کو برقرار رکھنا اہم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صدارت کرنے والا ہر ملک مشترکہ اہداف کے حصول میں اپنی ترجیحات اور کردار بھی شامل کرتا ہے، روس کو توقع ہے کہ پاکستان سیاسی، سلامتی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں مربوط اقدامات کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل پیش کرے گا۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ پاکستان سے ایس سی او خطے میں استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے عملی اقدامات متعین کرنے کی بھی توقع ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ یکم ستمبر کو بشکیک میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کی طرح پاکستان کی کامیاب صدارت کے لیے حمایت اور معاونت کی آمادگی ظاہر کی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس پاکستان کی ایس سی او صدارت کے دوران مؤثر اور نتیجہ خیز مشترکہ کام کے لیے تیار ہے اور پاکستان کی کامیاب صدارت کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے۔



