آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ بحالی کا حکم، حکومت کو 10 روز کی مہلت

مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے) آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت کو انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے 10 روز کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایسے علاقوں کے علاوہ جہاں امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں، باقی تمام علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے۔
جسٹس شاہد بہار نے انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق آزاد کشمیر بار ایسوسی ایشن اور ایک مقامی شہری کی جانب سے دائر الگ الگ درخواستوں کو یکجا کرکے ابتدائی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے حکومت آزاد کشمیر کو زبانی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 10 روز کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے، تاہم امن و امان کے حوالے سے حساس علاقوں کو اس حکم سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
اس سے قبل 31 اگست کو وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی ہدایت پر آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں مکمل جبکہ چار اضلاع میں جزوی طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ میرپور، نیلم اور حویلی سمیت بعض علاقوں میں ڈی ایس ایل سروس بحال ہوئی، تاہم مظفرآباد میں سروس مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس 5 جون کو راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کی لانگ مارچ اور دھرنے کی کال کے بعد عائد پابندیوں کے باعث معطل کی گئی تھی۔ تقریباً 48 روز بعد سروس جزوی طور پر بحال کی گئی، تاہم مظفرآباد میں ہڑتال اور تصادم کے بعد 25 جولائی کو دوبارہ انٹرنیٹ بند کردیا گیا۔
طویل بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں، سرکاری امور اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متاثر ہوا، جبکہ طلبہ و طالبات، فری لانسرز، سرکاری ملازمین اور دیگر پیشہ ور افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں اور فری لانسرز نے ہائی کورٹ کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی عدم دستیابی کے عرصے کے بل صارفین سے وصول نہ کیے جائیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب سروس فراہم نہیں کی گئی تو بندش کے دوران کے انٹرنیٹ بل بھی معاف کیے جانے چاہئیں۔



