شہدا کے لواحقین کیلئے معاوضہ نہیں؟ اسلام آباد انتظامیہ کا عدالت میں بڑا انکشاف

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) جی الیون جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے متاثرین کو معاوضے کی عدم ادائیگی کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا، جہاں ڈپٹی کمشنر آفس نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ متاثرین اور شہدا کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کے پاس الگ سے رقم موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب طاہر نے جی الیون جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت ڈپٹی کمشنر آفس اسلام آباد کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جی الیون دھماکے کے شہدا کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے کوئی الگ رقم مختص نہیں کی گئی۔ انتظامیہ نے چیف کمشنر آفس کو خط لکھ کر فنڈز مختص کرنے کی درخواست کردی ہے۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ وزارت داخلہ سے فنڈز ملنے کے بعد ترلائی امام بارگاہ دھماکے میں جاں بحق افراد اور زخمیوں کے خاندانوں میں معاوضے کے چیکس تقسیم کیے گئے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل نے دورانِ سماعت ضلعی انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے پاس دیگر اخراجات کے لیے رقم موجود ہے لیکن شہدا کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی سی ٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایڈمن کو ذاتی حیثیت میں تمام متعلقہ ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ جوائنٹ سیکرٹری ایڈمن آئندہ سماعت پر ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں اور متاثرین کو معاوضے کی عدم ادائیگی سے متعلق صورتحال واضح کریں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔

شہدا کے لواحقین کو معاوضے کی عدم ادائیگی اور فنڈز کی عدم دستیابی سے متعلق یہ معاملہ اب عدالت کے سامنے ہے، جہاں انتظامیہ سے اس حوالے سے مکمل ریکارڈ اور وضاحت طلب کی گئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button