بدین:ملکانی شریف میں 12 سالہ بچی کے مبینہ اغوا کیخلاف ورثا کااحتجاج،پولیس کی یقین دہانی پر دھرنا ختم

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)ملکانی شریف میں12 سالہ بچی کے مبینہ اغوا کے خلاف احتجاج، دھرنا، پنگریو جھڈو روڈ بلاک. ملکانی شریف کے قریب گاؤں فضل واڈھو میں 12 سالہ بچی گڈی بھیل کے مبینہ اغوا کے خلاف ورثا اور اہل خانہ نے ملکانی شریف میں پنگریو جھڈو روڈ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنادیا، جس کے باعث اہم شاہراہ پر ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی اور سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ احتجاج کے دوران ورثا نے بچی کی فوری بازیابی اور مبینہ اغوا میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔مبینہ طور پر اغوا ہونے والی 12 سالہ گڈی بھیل کے والد گلاب بھیل، والدہ پوپری بھیل اور دیگر اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی کمسن بیٹی کو امتياز انڑ، امام بخش اور ہاشم انڑ مبینہ طور پر اغوا کرکے لے گئے ہیں۔ ورثا کے مطابق بچی کے لاپتا ہونے کے بعد انہوں نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دی اور رپورٹ بھی درج کرائی، تاہم کئی کوششوں کے باوجود تاحال بچی بازیاب نہیں ہوسکی، جس کے باعث اہل خانہ میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔احتجاجی ورثا کا کہنا تھا کہ کمسن بچی کے مبینہ اغوا کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور پولیس فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بچی کا سراغ لگائے۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر نامزد افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور بچی کو بحفاظت بازیاب کراکر اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔دھرنے کے باعث پنگریو جھڈو روڈ پر ٹریفک کی آمدورفت کچھ دیر کے لیے مکمل طور پر متاثر رہی، جبکہ مسافروں اور گاڑیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاع ملنے پر چیک پوسٹ خیرپور گمبو کے پولیس سب انسپکٹر میر سرفراز ٹالپر پولیس نفری کے ہمراہ دھرنے کے مقام پر پہنچے اور احتجاج کرنے والے ورثا سے مذاکرات کیے۔پولیس سب انسپکٹر میر سرفراز ٹالپر نے ورثا کو یقین دہانی کرائی کہ مبینہ طور پر اغوا ہونے والی بچی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد بچی کے ورثا نے دھرنا ختم کردیا اور پنگریو جھڈو روڈ پر ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔دوسری جانب واقعے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے مزید تفتیش اور بچی کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری ہے

مزید خبریں

Back to top button