محمود بھٹی کو ہتک عزت کیس میں بڑا ریلیف، عدالت نے دفاع کی اجازت دے دی

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) پنجاب ڈیفیمیشن ٹریبونل نے پاکستانی نژاد فرانسیسی فیشن ڈیزائنر محمود احمد بھٹی اور دیگر مدعا علیہان کو ہتکِ عزت کے دعوے میں اپنا دفاع پیش کرنے کی اجازت دے دی، تاہم عدالت نے ہر مدعا علیہ کو 30 لاکھ روپے کے ذاتی ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
یہ حکم 3 ستمبر 2026 کو رضوان آفتاب احمد بنام محمود احمد بھٹی و دیگر کیس میں جاری کیا گیا۔ مقدمہ معروف ہیلتھ کیئر کاروباری شخصیت اور نیشنل ہسپتال ڈی ایچ اے لاہور کے ڈائریکٹر کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔
ٹریبونل کے مطابق مقدمے میں قانون اور حقائق سے متعلق متعدد اہم سوالات موجود ہیں، جن کا حتمی فیصلہ شواہد اور فریقین کے مؤقف کی روشنی میں کیا جائے گا۔
مقدمے میں محمود بھٹی کے علاوہ عمر آفتاب بھی مدعا علیہ ہیں، جو یوٹیوب چینل Startupreneur کی میزبانی کرتے ہیں، جبکہ Views Matter Podcast کے میزبان علی ڈار بھی کیس میں شامل ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق تنازع اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر محمود بھٹی کی جانب سے ایک خط گردش میں آیا، جس میں درخواست گزار کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز الزامات عائد کیے گئے تھے۔ درخواست گزار کے مطابق بعد ازاں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے بعض انٹرویوز کے ذریعے بھی ان کی مزید کردار کشی کی گئی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان مبینہ بیانات اور مواد کے باعث ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ تاہم محمود بھٹی نے ہتک آمیز بیانات دینے کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ انٹرویو کو اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
کیس میں شامل ایک ڈیجیٹل صحافی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے صحافتی سرگرمی کے دوران صرف انٹرویو کی میزبانی کی اور خود کوئی ہتک آمیز بات نہیں کی۔
دوسری جانب درخواست گزار نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ بعض حالات میں مبینہ ہتک آمیز مواد کی تشہیر یا اسے عوام تک پہنچانے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا بھی قانونی ذمہ داری کا باعث بن سکتا ہے۔
عدالت نے فریقین کے مؤقف اور مقدمے میں موجود قانونی و حقائق کے سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مدعا علیہان کو اپنا دفاع پیش کرنے کی اجازت دے دی، تاہم ہر مدعا علیہ کو 30 لاکھ روپے کے ذاتی ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مقدمے کی آئندہ کارروائی میں فریقین کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی دلائل اہمیت کے حامل ہوں گے، جبکہ ہتکِ عزت کے دعوے پر حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔



